Urdu book · اسلامی تعلیمات

بنیادی مسئلہ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

سابق شکل میں دُہرایا جا سکتا ہے۔ اس مثال کے ذریعہ ہم دوسری دنیا کے مسئلے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جس طرح ہمارے چاروں طرف ہوا کا ایک غلاف ہے ۔ اور ہماری ہر آواز منہ سے نکلتے ہی اس پر نقش ہو جاتی ہے ۔ حالاں کہ ہم نہ ہوا کو دیکھتے ہیں اور نہ اپنی آواز کے نقوش کو۔ ٹھیک اسی طرح وہ دوسری دنیا بھی ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہماری نیتوں اور ارادوں کو مسلسل ریکارڈ کرتی جا رہی ہے۔ اس کے پردے پر ہمارے اعمال کے نقوش ثبت ہو رہے ہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو جائیں گے۔ گراموفون میں چابی بھری ہوئی ہو اور ریکارڈ اس کے اوپر گھوم رہا ہو تو سوئی رکھتے ہی ریکارڈ کی خاموش تختی یکایک اس طرح بول پڑتی ہے جیسے وہ اسی کی منتظر تھی کہ کوئی اس کے اوپر سوئی رکھے اور وہ اپنے اندر کی آواز کو نکالنا شروع کر دے۔ اسی طرح ہمارے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور جب کائنات کا مالک حکم دے گا تو سارا ریکارڈ اس طرح ہمارے سامنے آجائے گا کہ اس کو دیکھ کر آدمی بے اختیار کہہ گا : مَالِ هٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً اِلَّا اَحْصَاهَا یہ کیسی کتاب ہے ۔ میرا چھوٹا بڑا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اس نے محفوظ نہ کر لیا ہو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر ایک منٹ کے اندر دنیا کے ایک سو آدمی مرجاتے ہیں۔ یعنی رات اور دن کے اندر پندرہ لاکھ ۔ یہ واقعہ ہر آدمی کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی کے لیے یہ اندیشہ ہے کہ اگلے ۲۴ گھنٹے کے لیے جن پندرہ لاکھ آدمیوں کی فہرست بن رہی ہے اس میں اس کا نام بھی شامل ہو۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے کل کو جان لے۔ جو شخص صرف اپنے آج کو جانے اس سے زیادہ نادان اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page