عقیدہ خدا
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
نظام کے تحت غذا ہمارے اندر تحلیل ہوتی ہے اور گوشت اور خون اور ہڈی اور ناخن اور بال اور دوسری بہت سی چیزوں کی صورت اختیار کر کے ہمارے جسم کا جزر بن جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی بے شمار گردشوں کے بعد وہ حیرت انگیز چیز پیدا ہوتی ہے جس کو تیل کہتے ہیں۔ انسان صرف یہ کرتا ہے کہ اس کو نکال کر اپنی مشینوں میں بھر لیتا ہے۔ اور پھر یہ سیال ایندھن انسانی تہذیب کے پورے نظام کو حیرت انگیز طور پر رواں دواں کر دیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کے نظام کے تحت وہ ساری چیزیں بے شمار تعداد اور مقدار میں پیدا کی گئی ہیں جن پر انسان صرف معمولی عمل کرتا ہے اور اس کے بعد وہ کپڑا، مکان، فرنیچر، آلات، مشینوں ، سواریوں اور بے شمار تمدنی ساز و سامان کی صورت میں ڈھل جاتی ہیں۔ کیا یہ واقعات اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہیں کہ اس کا ایک بنانے والا اور چلانے والا ہے۔ اب ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ قدرت اپنے طویل اور ناقابلِ بیان عمل کے ذریعہ ہر قسم کی چیزیں تیار کر کے، ہم کو دے رہی ہے۔ انسان ان کو اپنے حق میں کار آمد بنانے کے لئے بے حد تھوڑا حصہ ادا کرتا ہے ۔ وہ لوہے کو مشین کی صورت میں ڈھالتا ہے۔ اور تیل کو صاف کر کے اس کو اپنی گاڑی کی ٹنکی میں بھرتا ہے۔ مگر اس قسم کے معمولی عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ خشکی اور تری فساد سے بھر گئے ہیں۔ قدرت نے ہم کو ایک انتہائی حسین اور خالص دنیا دی تھی۔ مگر ہمارے عمل نے ہم کو دھواں، شور، غلاظت، توڑ پھوڑ، لڑائی جھگڑا اور طرح طرح کے ناقابل حل مسائل سے گھیر لیا ہے۔ ہم اپنے کارخانوں یا تمدنی سرگرمیوں کی صورت میں جو تھوڑا سا عمل کرتے ہیں وہی عمل کائنات میں بے حساب گنا زیادہ بڑے پیمانے پر رات دن ہورہا ہے۔ مگر یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader