Urdu book · اسلامی تعلیمات

عقیدہ خدا

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ زمین مسلسل دو قسم کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ ایک اپنے محور پر اور دوسری سورج کے گرد اپنے مدار پر، مگر وہ کوئی شور برپا نہیں کرتی۔ درخت ایک عظیم الشان کارخانہ کی صورت میں کام کرتے ہیں مگر وہ دھواں نہیں بکھیرتے۔ سمندروں میں بے شمار جانور ہر روز مرتے ہیں مگر وہ پانی کو خراب نہیں کرتے۔ کائنات کا نظام کھرب ہا کھرب سال سے چل رہا ہے مگر اس کا منصوبہ اتنا کامل ہے کہ اس کو کبھی اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بے شمار ستارے اور سیارے خلا میں ہر وقت دوڑ رہے ہیں۔ مگر ان کی رفتار میں کبھی فرق نہیں آتا، وہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ یہ تمام معجزوں سے بڑا معجزہ اور تمام کرشموں سے بڑا کرشمہ ہے جو ہر لمحہ ہماری دنیا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی اور ثبوت چاہئے کہ آدمی اس کائنات کے پیچھے ایک عظیم خدائی طاقت کو تسلیم کرے۔ پھر زندگی کو دیکھئے ۔ فطرت کا کیسا انوکھا واقعہ ہے کہ چند مادی چیزیں خود بخود ایک جسم میں یک جا ہوتی ہیں اور پھر ایک ایسی شخصیت وجود میں آ جاتی ہے جو مچھلی بن کر پانی میں تیرتی ہے۔ جو چڑیا بن کر ہوا میں اڑتی ہے۔ طرح طرح کے جانوروں کی صورت میں زمین پر چلتی پھرتی ہے، انھیں میں وہ جاندار بھی ہے جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ پر اسرار اسباب کے تحت ایک موزوں جسم بنتا ہے۔ اور اس کے اندر ہڈیاں ایک انتہائی با معنی ڈھانچہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ پھر اس کے اوپر گوشت چڑھا یا جاتا ہے۔ اس کے اوپر کھال کی تہیں اوڑھائی جاتی ہیں، بال اور ناخن پیدا کئے جاتے ہیں۔ پھر سارے جسم میں خون کی نہریں جاری کی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک خود کار عمل کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page