عقیدہ خدا
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزپاتی ہے اور غلطی سے اس کو خدا سمجھ رہا ہے۔ وہ مٹی کا سیب چبا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں حقیقی سیب کھا رہا ہوں۔ دنیا اپنی ابتدائی شکل میں صرف ایک قسم کا مادہ ہے۔ ساری دنیا ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ بالفاظ دیگر ساری دنیا بے روح مادہ ہے۔ اس بے روح مادہ کو خدا بے شمار صورتوں میں جلوہ گر کر رہا ہے۔ اس بے روح مادہ سے خدا کہیں روشنی پیدا کر رہا ہے اور کہیں حرارت۔ کہیں وہ اس بے روح مادہ کو ہریالی میں تبدیل کر رہا ہے اور کہیں پانی کی روانی میں۔ کہیں وہ اس بے روح مادہ کو رنگ کی صورت میں ظاہر کر رہا ہے اور کہیں مزہ اور خوشبو کی صورت میں۔ کہیں اس بے روح مادہ سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہو رہے ہیں اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے عجیب و غریب قدرت والے خدا کو پا نا ایک خشک عقیدہ کو پا نا نہیں ہو سکتا۔ ایسے خدا کو پا نا تو یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک اٹھاہ روشنی سے جگمگا اٹھے۔ وہ اس کے قلب کے لئے لطف و لذت کا سمندر بن جائے۔ آدمی ایک عمدہ پھل کھاتا ہے تو وہ باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو وہ ہمہ تن وجد میں آجاتا ہے۔ کسی کے یہاں ایک خوبصورت بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کا پا نا کیا کسی کو بے قرار نہیں کرے گا۔ وہ محض ایک بے کیف واقعہ بن کر رہ جائے گا۔ خدا کو پا نا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا مشام معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف اندوز ہو۔ وہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader