Urdu book · اسلامی تعلیمات

عقیدہ خدا

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ بڑے پیمانہ پر موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرت کرے۔ (قیامه) لوگ خدا پر اور خدا کے پیغام پر یقین کرنے کے لئے معجزاتی دلیل مانگتے ہیں۔ آخر لوگوں کو اس کے سوا اور کون سا معجزہ درکار ہے جو ناقابل قیاس حد تک بڑے پیمانے پر ساری کائنات میں جاری ہے۔ اگر اتنا بڑا معجزہ آدمی کو جھکانے کے لئے کافی نہ ہو تو دوسرا کوئی معجزہ دیکھ کر وہ کیسے ماننے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے اور اس کے آگے اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہر وقت آدمی کے سامنے موجود ہے۔ اس کے باوجود آدمی اگر خدا کو اور اس کے جلال و کمال کو نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کسی اور کا۔ جو شخص خدا کو پالے اس نے سب کچھ پا لیا۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی چیز پانے کے لئے باقی نہیں رہتی۔ اس لئے جب کوئی شخص خدا کو پاتا ہے تو اس کی ساری توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ اس کے لئے خدا ایسا اتھاہ خزانہ بن جاتا ہے جہاں وہ سب کچھ موجود ہو جو آدمی کو اپنی دنیا و آخرت کے لئے درکار ہے۔ ایک شخص ”سیب“ کھائے۔ مگر سیب کے کھانے سے اس کو نہ کوئی مزہ ملے اور نہ وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر اس کو طاقت دے تو کہا جائے گا کہ اس نے سیب نہیں کھایا، اس نے سیب کی شکل کی کوئی چیز چبا لی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ خدا کا بھی ہے۔ خدا کو پانا، ہی پانا ہے۔ جو آدمی کے لئے مزہ بن جائے۔ جب ”خدا“ کو پا کر بھی آدمی مزہ سے خالی رہے تو کہنا چاہئے کہ اس نے خدا کو نہیں پایا۔ اس نے کوئی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page