Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ انتہائی محکم بنیادوں پر چل رہی ہے۔ ایسی ایک کائنات کو دیکھ کر فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا خالق و مالک کون ہے۔ کون ہے جو اس کو عدم سے وجود میں لے آیا۔ کائنات یہ انتہائی اہم سوال ہمارے سامنے لاتی ہے مگر وہ اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ وہ ہم کو قوسِ قزح کا مشاہدہ کراتی ہے مگر وہ ہم کو اپنے خالق کا چہرہ نہیں دکھاتی۔ کائنات میں حرکت ہے، زندگی ہے، روشنی ہے، تخلیق ہے، مختلف قسم کی طاقتیں ہیں۔ حتیٰ کہ طرح طرح کے جانداروں کی صورت میں بولنے والی زبانیں بھی ہیں۔ مگر اس اہم ترین سوال کے بارے میں سب خاموش ہیں۔ کوئی بھی انسان کو اس سوال کا جواب نہیں دینا۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا نہیں ہے جہاں اس سوال کا جواب لکھا ہوا نظر آتا ہو۔ یہ صورت حال پکاررہی ہے کہ کوئی بتانے والا نوجوان کو اس سوال کے بارے میں بتائے۔ اسی کے ساتھ دوسرا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اس کائنات کا انجام کیا ہے۔ کائنات کی ہر چیز حرکت میں ہے۔ زمین مسلسل سفر کررہی ہے۔ شمسی نظام زمین اور دوسرے سیاروں کو لئے ہوئے ایک طرف کو چلا جارہاہے۔ پھر کہکشاں ہمارے شمسی نظام اور دوسرے ستاروں کو لئے ہوئے ہر لمحہ رواں دواں ہے۔ کائنات کا قافلہ اپنے تمام اجزاء کے ساتھ کسی منزل کی طرف چلا جارہا ہے۔ مگر کوئی بھی اپنی منزل کے بارے میں اعلان نہیں کرتا۔ کائنات کچھ نہیں بتاتی کہ وہ کہاں سے چلی ہے اور کہاں چلی جارہی ہے اور بالآخر وہ کہاں پہو نچنے والی ہے۔ یہ شدید ترین اہمیت رکھنے والا سوال ہے۔ کیوں کہ کائنات کے تیز رفتار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page