Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

قافلہ میں انسان بھی شریک ہے اور وہ مسلسل ایک نامعلوم سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ اگر وہ اپنے سفر اور اپنی منزل کی بابت نہ جانے تو سراسر اندھیرے کا سفر بن جائے گا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ یہاں کوئی انتظام ہو جو انسان کو اس معاملہ کی حقیقت سے باخبر کرے ۔ پھر اسی سے متعلق یہ سوال ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ آدمی کے سامنے بے شمار معاملات آتے ہیں اور ان کے درمیان ایک سے زیادہ طریقے اختیار کرنا اس کے لئے ممکن رہتا ہے ، پھر انسان کون سا معیار اپنے سامنے رکھے ۔ وہ کونسا طریقہ اختیار کرے اور کون سا طریقہ اختیار نہ کرے ۔ انسان کے لئے راہ عمل کیا ہو۔ پانی کا راستہ زمین کے نشیب و فراز سے بن جاتا ہے۔ درخت سے لے کر ستاروں تک ہر چیز کا ایک نظام مقرر ہے جس پر وہ پابندی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں ۔ کائنات کی دوسری چیزوں کے لئے یہ سوال نہیں کہ وہ کس کو لے اور کس کو چھوڑ دے ۔ جب کہ انسان اپنے اختیار کی وجہ سے ہر وقت اس سوال سے دو چار رہتا ہے۔ پوری کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے سامنے کوئی معلوم اور مقرر راہ عمل نہیں ۔ سورج حد درجہ پابند نظام کے تحت ہر روز ہمارے لئے روشنی پھیلاتਾ ہے ۔ مگر وہ ہماری اپنی زندگی کے سوال پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا ۔ ہوا ایک مکمل نظام کے تحت چلتی ہے اور پھولوں کی خوشبو ہمارے مشام تک پہنچاتی ہے مگر وہ ہمارے اصل مسئلہ کے بارے میں ، ہم کو کوئی خبر نہیں دیتی ۔ پانی ایک متعین قانون میں بندھا ہوا ہے ، وہ ہمارے لئے ٹھنڈک اور تراوٹ لے کر آتا ہے مگر ہماری تلاش کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page