Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

مدار میں داخل نہیں ہوتی۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ایک متعین صورت حال جہاں دوسری چیزیں ہمیشہ ایک ہی رخ اختیار کرتی ہیں، انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ کئی رخ اختیار کر سکے ۔ وہ اپنے ’’مدار‘‘ سے نکل کر دوسرے کے ’’مدار‘‘ میں مداخلت کرنے لگے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے لئے راہ عمل پانے کا معاملہ اس سے مختلف ہے جو بقیہ کائنات کا ہے۔ بقیہ چیزیں اپنی راہ عمل خود اپنے ساتھ لاتی ہیں مگر انسان کو اپنی راہ عمل باہر سے حاصل کرنا ہے۔ مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنی راہ عمل خود دریافت نہیں کر سکتا۔ انسان عقل و فہم رکھتا ہے مگر اس کی عقل و فہم اصل مسئلۂ کی نسبت سے اتنی محدود ہے کہ کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی کوشش سے اس سوال کا جواب معلوم کر سکے۔ پچھلے ہزاروں سال کی تاریخ نے اس کو تجرباتی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔ کائنات کے اندر اپنے سوال کا جواب نہ پا کر انسان نے خود تحقیق شروع کی۔ مگر نسلوں کی کوششیں بھی اس کو کسی ایسی بات تک نہ پہنچا سکیں جس پر وہ یقین کر سکے۔ اس نے ستاروں اور سیاروں کی حرکت کے اصول معلوم کرنے کے مگر انسان کے سفر اور اس کے آغاز و انجام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ کر سکا۔ اس نے جمادات، نباتات اور حیوانات کا قانون دریافت کر لیا۔ مگر خود انسان کا قانون دریافت کرنے میں ناکام رہا۔ اس نے یہ جان لیا کہ مادہ فنا ہوتا ہے تو انرژی بن جاتا ہے اور انرژی ختم ہوتی ہے تو وہ مادہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے مگر انسان مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ اس نے معلوم کر لیا کہ کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی محکم قانون میں بندھی ہوئی ہیں اور اس سے ادنیٰ انحراف کئے بغیر کھرب ہاکھرب سال تک چلتی رہتی ہیں۔ مگر انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page