Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

بارے میں وہ ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔ زمین اپنی محوری گردش کے ذریعہ ہر روز ہمارے لئے دن لاتی ہے اور رات کا پردہ ہمارے اوپر سے ہٹاتی ہے مگر وہ زندگی کے بھید کا پردہ نہیں کھولتی۔ درخت زمین کو پھاڑ کر نکلتے ہیں اور ایک منظم کارخانہ کی طرح عمل کرتے ہوئے ہمارے لئے رزق اور سایہ فراہم کرتے ہیں۔ مگر وہ ہماری ذہنی غذا کے لئے ہمیں کوئی چیز فراہم نہیں کرتے۔ چر چریاں چھپاتی ہیں، ان کو اپنی زندگی کا نظام پوری طرح معلوم ہے مگر وہ ہماری قابل فہم زبان میں ہم کو کوئی پیغام نہیں دیتیں۔ ستارے اور سیارے اپنے نظام میں ایک سیکنڈ کا فرق کئے بغیر دوڑ رہے ہیں مگر وہ نہیں بتاتے کہ وہ کون سی منزل ہے جس کی طرف انسان کورداں دواں ہونا چاہئے۔ کائنات کی ہر چیز ایک ہی مقرر راستہ پر چل رہی ہے، حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشانوں تک سب کے سب اپنے مقررہ نظام کے اس طرح پابند ہیں جیسے ان کو اپنی راہ عمل پوری طرح معلوم ہو۔ یہاں صرف ایک انسان ہے جو اپنی راہ عمل سے بے خبر ہے۔ ایک باخبر کائنات میں وہ بالکل بے خبر حالت میں کھڑا ہو ا تمام چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنی منزل کی طرف جاتا ہو ادیکھتا ہے مگر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ خود کیا کرے اور کدھر جائے۔ کائنات میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب کا ایک نظام مقرر ہے جس پر وہ حد درجہ پابندی کے ساتھ قائم ہیں۔ یہاں صرف ایک انسان کا استثناء ہے۔ انسان واحد مخلوق ہے جو کسی نظام میں بندھا ہوا نہیں ہے۔ وہ اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ زمین اپنے مدار میں گھومتی ہے۔ وہ دوسرے سیاروں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page