رسالت
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے اچھا کارخانہ ہے۔ یہ بات معلوم ہوتے ہی دیکھنے والوں کی الجھن ختم ہو جائے گی۔ کیوں کہ اب ان کو مشین کی اعلیٰ کارکردگی کی توجیہہ مل گئی۔ اسی طرح ایک عظیم کائنات کا موجود ہونا اور پھر اس کا حد درجہ محکم طریقہ پر چلنا اس کے بارے میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کیوں کر بنی اور کیسے چل رہی ہے۔ جب پیغمبر یہ کہتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کو بنایا اور جو اس کو اپنی خدائی طاقتوں سے چلا رہا ہے تو فوراً ہم کو اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ جواب ہمارے لئے ذرا بھی بعید از قیاس نہیں۔ کیوں کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ہم اپنی ذات کی سطح پر ایک ایسے وجود کا تجربہ کر رہے ہیں جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سوچتا ہے، جو چلتا ہے، جو کپڑتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے، جو واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ "انسان" کی صورت میں جن قوتوں کو ہم محدود طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہی قوتیں زیادہ کامل طور پر خدا کی صورت میں موجود ہوں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے۔ یہ تو گویا اسی واقعہ کو زیادہ بڑے پیمانے پر ماننا ہے، جس کا ہر وقت ہم چھوٹے پیمانے پر تجربہ کر رہے ہیں۔ "میں " ہوں یہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ "خدا" ہے۔ دوسری بات جو پیغمبر بتاتا ہے وہ یہ کہ کائنات بے انجام نہیں۔ اس کا ایک انجام ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ آدمی کو بنٹا ہر اس دنیا میں جو آزادی حاصل ہے وہ صرف امتحان کے لئے ہے۔ یہ آزادی ایک خاص مدت تک ہے۔ اس مدت کے ختم ہونے کے بعد موجودہ نظام توڑ دیا جائے گا۔ اور نیا زیادہ کامل اور ابدی نظام بنایا جائے گا۔ وہاں خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ جو اس وقت امتحان کی مصلحت کی بنا پر غیب کے پردہ میں چھپا ہوا ہے۔ آج کی دنیا میں ہر ایک کو فائدہ اٹھانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader