Urdu book · اسلامی تعلیمات

رسالت

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

کا موقع ہے۔ مگر آنے والی دنیا میں خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا حق صرف ان لوگوں کو ہو گا جنھوں نے حالت غیب میں خدا کی وفاداری کی ہوگی۔ بقیہ تمام لوگ خدا کی نعمتوں سے دور پھینک دئے جائیں گے۔ پیغمبر کی یہ خبر بھی پوری طرح سچائی کے مطابق معلوم ہوتی ہے۔ ایک ایسا خدا جس نے دیکھنے اور سمجھنے والے انسان کو بنایا، کیسی عجیب بات ہوگی کہ انسان یوں ہی پیدا ہو کر مر جائے اور اس کا خدا اس کے سامنے ظاہر نہ ہو کہ وہ اس کو دیکھے اور جانے۔ پھر موجودہ کائنات اتنی باحکمت ہے کہ کسی طرح بھی یہ بات قابل تصور نہیں ہے کہ اس کا کوئی انجام نہ ہو، کوئی ایسا دن نہ آئے جہاں ظلم ظلم کی صورت میں اور انصاف انصاف کی صورت میں نمایاں ہو۔ یہاں دوبارہ پیغمبر کی خبر عین وہی ہے جس کا انسانی فطرت تقاضا کر رہی تھی، ایک ایسی دنیا جہاں عدم سے وجود کے مظاہر سے ہوتے ہوں۔ جہاں رات کے بعد دن آتا ہو، جہاں ایک معمولی بیج سے بے شمار بڑے بڑے درخت پیدا ہوتے ہوں۔ جہاں آج ہمیشہ کل میں تبدیل ہوتا ہو، ایسی دنیا کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ایک آخرت ہے حد درجہ قابل فہم ہے۔ جو دن ہم ہر روز نکلتا دیکھتے ہیں ، یہ اس کے زیادہ بڑے پیمانے پر نکلنے کی خبر ہے۔ جو کل ہر روز ہمارے اوپر آتی ہے یہ اس کے زیادہ بڑی صورت میں ظاہر ہونے کی اطلاع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر، ہماری اپنی فطرت کی مانگ کو شعور تک پہنچاتا ہے، جس بات کے اشارے آج بھی کائنات میں موجود ہیں اس کو وہ یقینی علم کا درجہ عطا کرتا ہے۔ پیغمبر نے انسان کے لئے جو راہ عمل بتائی ہے وہ بھی حد درجہ قابل فہم ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ کیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page