Urdu book · اسلامی تعلیمات

آغاز کلام

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

آغاز کلام ہر آدمی کی ایک سوچ ہوتی ہے جس کے تحت وہ زندگی اور کائنات کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ پھر اسی سوچ کے مطابق وہ کسی چیز کو سب سے اونچی جگہ دیتا ہے اور اس کو اپنی عقیدتوں اور توجہات کا مرکز بناتا ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ ماحول کے اندر اپنا عمل کرتا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو عقیدہ ، عبادت اور کردار کہہ سکتے ہیں۔ انھیں تینوں چیزوں کے مجموعہ کا نام دین ہے اور اس اعتبار سے ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی دین ہوتا ہے، خواہ وہ خدا پرست ہو یا غیر خدا پرست۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اس حقیقتِ واقعہ کو پالے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک قادرِ مطلق کا ارادہ کام کر رہا ہے۔ وہی اس کا خالق و مالک ہے۔ اسی کے یہاں ہر ایک کا حساب و کتاب ہونے والا ہے۔ صحیح وہ ہے جو اس کے نزدیک صحیح ٹھہرے اور غلط وہ ہے جو اس کے یہاں غلط قرار پائے۔ اس حقیقت کا پانا کسی ریاضیاتی نارمولے کا پانا نہیں ہے۔ وہ بندے کا اپنے خدا کو پانا ہے۔ یہ ”بے کچھ“ کا ”سب کچھ“ کو پالینا ہے۔ اس لئے جو آدمی اس حقیقت کو پالے وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک اور ہی انسان بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی ایک ربانی سمندر میں نہا اٹھتی ہے۔ یہ ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کے دل و دماغ کو پوری طرح اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page