آغاز کلام
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
پکڑ میں لے لیتی ہے۔ اس کا دیکھنا اور سننا خدا کی نظر سے دیکھنا اور سننا بن جاتا ہے۔ اس کے فکر و خیال کی دنیا اگر اب تک تاریک تھی تو اب اس کے اندر ایک نیا آفتاب جل اٹھتا ہے جو اس کی پوری ہستی کو روشن کر دیتا ہے۔ اس نفسیاتی یافت کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ تن خدا کا ہو جاتا ہے۔ وہ اس کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی ہستی کو اس کے مقابلہ میں کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کا سلوک ایک بندۂ خدا کا سلوک بن جاتا ہے۔ جہاں لوگ انانیت دکھاتے ہیں وہاں وہ متواضع بن جاتا ہے۔ جہاں لوگ انتقامی کارروائی کرتے ہیں وہاں وہ معاف کر دیتا ہے۔ جہاں لوگ ظلم پر اتر آتے ہیں وہاں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ جہاں لوگ اپنی ذات کے لئے کٹ جاتے ہیں وہاں وہ حق کی خاطر جڑ جاتا ہے۔ جہاں لوگ خود پاکر مطمئن ہو جاتے ہیں وہاں وہ دوسروں کو دینے کی فکر کرتا ہے۔ جہاں لوگ دنیا کی رونقوں کی طرف دوڑتے ہیں وہاں وہ آخرت کی چھپی ہوئی دنیا میں اپنے کو گم کر دیتا ہے۔ یہی وہ سچی زندگی ہے جو پیغمبر کے ذریعہ انسان کو بتائی گئی ہے۔ جو لوگ اس طرح ایک خدا کو اپنا لیں وہ فطری طور پر باہم جڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بھلائی کو دوسروں تک بھی پہنچانے لگتے ہیں جس کو انھوں نے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔ ان کی باہر کی زندگی ان کی اندرونی زندگی کا عکس بن جاتی ہے۔ کوئی آدمی دولت کے لئے جیتا ہے، کوئی عزت کے لئے، کوئی اقتدار کے لئے۔ ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کسی نہ کسی چیز میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader