آخرت
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے تھے اور وہ جانوروں طرح گھاس چر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے تھے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور جب وہ گٹھا اس سے نہیں اٹھتا تو وہ اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر ذمہ داریوں اور امانتوں کا اتنا بوجھ تھا کہ وہ اٹھا نہ سکتا تھا مگر وہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لیتا تھا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مقرد ر ہیں جو بے روک ٹوک زبان چلاتے تھے اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ کر فتنہ برپا کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ ایک پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ہو اور اس میں سے ایک بڑا سا بیل نکل آیا۔ اس کے بعد وہ بیل دوبارہ اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر کوشش کے باوجود وہ دوبارہ اس کے اندر نہ جاسکا۔ آپ نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ اس آدمی کی مثال ہے جو بے پروائی کے ساتھ ایک فتنہ کی بات کہہ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برے نتائج دیکھ کر اس کو واپس بینا چاہتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا۔ اسی طرح ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھارہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دوسرے بھائیوں پر طعن و طنز کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader