Urdu book · اسلامی تعلیمات

آخرت

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ اور لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اس اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو پر حملے کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ہونٹ اونٹوں سے ملتے جلتے تھے اور وہ آگ کھا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال دنیا میں کھاتے تھے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بہت بڑے ہیں اور وہ سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں، وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔ پھر کچھ لوگ دکھائی دئے جن کے ایک جانب اچھا گوشت رکھا ہوا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آ رہی تھی۔ وہ اچھے گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے جائز بیویوں اور شوہروں کو چھوڑ کر حرام سے اپنی خواہش پوری کی۔ جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن میں جنت کو عطار متشابہ کہا گیا ہے، یعنی ایسا انعام جو آدمی کے عمل سے ملتا جلتا ہو۔ ارشاد ہوا ہے کہ جنت میں جب کوئی پھل انھیں کھانے کے لئے دیا جائے گا تو اہل جنت کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دئے گئے تھے اور ان کو دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے پھل دئے جائیں گے (بقرہ ۲۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعامات دنیا کے عمل کے عین مطابق و مماثل ہوں گے۔ دنیا میں کسی بندۂ خدا کو جس عمل کی توفیق ملی ہوگی اسی سے ملتا جلتا بدلہ جنت میں اس کے حصہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page