آخرت
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
لطیف مقام ہے جہاں کثافت بھی بہ شکل خوشبو ظاہر ہوگی۔ ایسی لطیف آبادی میں رہنے کا مستحق صرف وہ شخص قرار دیا جائے گا جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثبوت دیا ہو کہ اپنی نفسیاتی کثافت کو وہ خوشبو کی صورت میں خارج کرسکتا ہے، کثافت کا خوشبو کی صورت میں ظاہر ہونا موجودہ دنیا میں نفسیاتی اعتبار سے ہوتا ہے۔ آخرت میں یہی واقعہ اللہ کے حکم کے تحت مادی صورت میں پیش آئے گا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آدمی کے اپنے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کو لوٹائے جائیں گے (انماهى اعمالكم ترد الیکم)، دنیا میں آدمی کے اخلاقی اعمال آخرت میں مادی نتائج کی صورت اختیار کر لیں گے۔ ہر واقعہ جو دنیا میں پیش آتا ہے اس میں آدمی کے لئے دو قسم کے جواب کا امکان رہتا ہے۔ اسی سے فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی۔ کوئی حق بات سامنے آتی ہے، اب ایک شخص اس کا اعتراف کر لیتا ہے اور دوسرا شخص انکار کرتا ہے۔ کوئی معاملہ پڑتا ہے، اس میں ایک شخص انصاف پر قائم رہتا ہے اور دوسرا ظلم پر اتر آتا ہے۔ کوئی ناموافق صورت حال پیش آتی ہے، اب ایک شخص تواضع کا انداز اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص سرکشی کرنے لگتا ہے۔ کوئی باہمی قضیہ ابھرتا ہے، اب ایک شخص محبت اور خیر خواہی کا رویہ اپناتا ہے اور دوسرا شخص نفرت اور انتقام کا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ردعمل ہیں اور یہی آخرت کی زندگی میں آدمی کے انجام کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اعمال جب مادی صورت اختیار کر لیں تو انھیں میں سے ایک صورت کا نام جنت ہوتا ہے اور دوسری صورت کا نام جہنم۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader