آخرت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے لگتا ہے اس وقت حقوق کو پورے انصاف کے ساتھ لوٹانا ہے۔ جب حق کا اعتراف کرنے میں اپنا وقار گرتا ہوا نظر آتا ہے اس وقت وقار کا خیال چھوڑ کر حق کا اعتراف کر لینا ہے۔ جب کسی کے خلاف جوابی کارروائی کا ذہن ابھرتا ہے اس وقت جوابی کارروائی سے اپنے کور دک کر مخالف کے ساتھ وہی کرنا ہے جو خیر خواہی اور انصاف کے تقاضے کے مطابق ہو۔ اگر آپ ٹرک پر سوار ہوں تو ٹرک پر دوڑتا ہوا ٹرک آپ کو زبر دست جھٹکے دے گا۔ اس کے برعکس جب آپ ایک اچھی کار پر بیٹھتے ہیں تو تیز دوڑتے ہوئے بھی کار آپ کو جھٹکے نہیں دیتی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کار کے پہیے کے ساتھ شاک ایبزار بر لگا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے کار اپنے تمام جھٹکوں کو اپنے پہیہ پر سہ لیتی ہے، وہ جھٹکے کو مسافر تک نہیں پہنچنے دیتی۔ اس کے برعکس ٹرک میں اس قسم کا شاک ایبزار ہر نہیں ہوتا اس لئے اس کے تمام جھٹکے مسافر تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اللہ سے بے خوف آدمی ٹرک کی مانند ہے۔ وہ اپنے اندر کے نفسیاتی جھٹکوں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ ان کو دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے ڈرنے والا آدمی کار کی مانند ہوتا ہے، وہ تمام ”جھٹکوں“ کو اپنے اوپر سہ لیتا ہے، ان کو دوسرے انسان تک منتقل ہونے نہیں دیتا۔ اسی کا نام صبر ہے۔ صبر یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے جو نا خوشگواریاں پیش آئیں ان کو آدمی اندر ہی اندر سہ لے، ان کے اثرات دوسروں تک نہ پہنچنے دے۔ ناخوشگواری کے جھٹکوں کو اپنے اوپر لے کر دوسروں کی طرف خوشگواری کو منتقل کرے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کو جنت میں آباد کئے جانے کے قابل بناتی ہے۔ جنت وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader