ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
ارکانِ اسلام عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ میں الخطاب قال سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا۔ علیہ وسلم یقول : بنی الاسلام علی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ خمسٍ شہادۃ أن لا الہ الا اللہ وأنَّ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور محمد محمداً عبدہ ورسولہ ، و اقام الصلوٰۃ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ و ایتاء الزکوٰۃ وحج البیت ، وصوم اور زکوٰۃ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان (رواہ البخاری ومسلم) رمضان کے روزے رکھنا۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ ہیں کہ اسلام کی تعمیر پانچ ستونوں (خمس دعائم) پر گئی گئی ہے۔ (کتاب الصلوٰۃ، محمد بن نصر المروزی) ایک عمارت اپنی تفصیلی صورت میں بہت سے اجزا کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مگر ساری عمارت جس چیز کے اوپر کھڑی ہوتی ہے وہ چند کھمبے (Pillars) ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے لئے بھی یہ پانچ چیزیں کھمبے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مضبوط ہونے سے اسلام مضبوط ہوتا ہے اور ان کے کمزور ہونے سے اسلام کمزور ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کی ہستی ایک زمین کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنی اس ”زمین“ پر خدا کی پسند والی عمارت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ ان پانچ کھمبوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ قائم کرے۔ ان کھمبوں کو بگاڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader