Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

بغیر نہ فرد کی سطح پر اسلام کا ظہور ہو سکتا ہے اور نہ سماج کی سطح پر۔ اسلام آدمی کے اندر جو زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ایک لفظ میں عبادت یا خدا پرستی کی زندگی ہے۔ تاہم اپنی تفصیلی صورت میں وہ پانچ چیزوں کا مجموعہ ہے: ایمان نماز ، روزہ ، زکٰوة اور حج۔ یہ پانچ چیزیں پانچ رسمیات نہیں بلکہ پانچ اوصاف ہیں۔ یہ ان مطلوب چیزوں کا خلاصہ ہے جو ہمارامالک ہماری زندگیوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ پانچ اوصاف آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں تو گویا اس کے اندر وہ بنیادی صلاحیت پیدا ہو گئی جس کے بعد یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی زندگی میں اس ربانی کردار کا ظہور ہو جس کو اسلام ایک ایک شخص کی زندگی میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایمان کا مطلب خدائی حقیقتوں پر یقین ہے۔ نماز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی بڑائی کے آگے اس طرح جھکے کہ اپنی بڑائی کا احساس اس کے اندر سے ختم ہو جائے۔ روزہ اللہ کے بھروسے پر صبر کرنے کا نام ہے۔ زکٰوۃ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کا حق پہچانے تاکہ خدا اس کو اس کے حصہ سے محروم نہ کرے۔ حج سے مراد یہ ہے کہ خدا کے بندے خدا کے گرد متحد ہو جائیں۔ یہ سب اپنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اوصاف ہیں نہ کہ محض خارجی مراسم۔ گویا کہ یقین ، بے نفسی ، صبر، حق شناسی اور اتحاد وہ پانچ صفاتی کھمبے ہیں جن کے اوپر اسلامی زندگی کا گھر بنتا ہے۔ ایمان اللہ کو اپنا الٰہ بنانے کا اقرار اس کو اپنا سب کچھ بنانے کا معاہدہ ہے۔ یہ اللہ کو اپنے احساسات اور جذبات کا مرکز بنانا ہے۔ یہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page