Urdu book · اسلامی تعلیمات

ارکانِ اسلام

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے اور پیغمبر کی زندگی میں اس حکم کا عملی نمونہ دیکھے۔ اور ان دونوں چیزوں کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے لگے۔ اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں، سب بھٹکنے کی صورتیں ہیں، نجات کی صورت اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پیغمبر کی زندگی ایک ایسی مکمل زندگی ہے جس میں چھوٹے لوگوں کے لئے بھی نمونہ ہے اور بڑے لوگوں کے لئے بھی۔ نماز اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ نماز اپنی متعین شکل کے اعتبار سے یہ ہے کہ روزانہ دن رات کے درمیان پانچ وقت مقررہ انداز میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ یہ انداز جو رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے، اتنا جامع ہے کہ اس سے زیادہ بہتر عبادتی انداز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جب وقت آتا ہے تو اذان کے ذریعہ اللہ کی بڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ نماز کا وقت آگیا، اپنی فلاح کے لئے جمع ہو جاؤ۔ لوگ وضو کر کے اپنے پاکی کے احساس کو تازہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کو یاد کرتے ہوئے مسجد میں پہنچتے ہیں۔ وہاں سب مل کر نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کا ایک امام ہوتا ہے جس کی رہنمائی میں اجتماعی نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسی طرح سارے مسلمان خدا کے رسول کو اپنا مرکز اجتماع قرار دے کر اس کے گرد متحد زندگی گزاریں گے۔ رکوع و سجود اور قیام و قعود کی مختلف حالتوں کے ذریعہ خدا کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کیا جاتا ہے۔ کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر، کبھی جھک کر، کبھی نیاز مندانہ بیٹھ کر کبھی اپنے سر کو زمین پر رکھ کر خدا کے ساتھ اپنے عہد بندگی کو تازہ کرتے ہیں۔ نماز میں قرآن کے حصے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کو جہاں کہیں سے اور جتنا بھی پڑھے، قرآن کی دعوت کا تعارف مل جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page