ارکانِ اسلام
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا ہر صفحہ گویا قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس طرح نماز میں اگر چہ بیک وقت قرآن کا مختصر حصہ پڑھا جاتا ہے مگر وہ اللہ کی پسند و ناپسند کو جاننے کے لئے ہمیشہ کافی ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ نماز میں خدا کی حمد اور ذکر کے کلمات بولے جاتے ہیں، اس سے دعا کی جاتی ہے، رسول کے لئے اور تمام اہل ایمان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حتی کہ اس کا خاتمہ تمام انسانوں کو سلامتی بھیج کر کیا جاتا ہے۔ اس طرح اپنے مختلف اجزاء کے ذریعہ نماز ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو بیک وقت اللہ کی عبادت بھی ہے اور اللہ کے حکموں کی یاد دہانی بھی۔ وہ اہل ایمان کے لئے دینی غذا بھی ہے اور ان کے درمیان اتحاد و اجتماعیت کا ذریعہ بھی۔ وہ اسلامی زندگی کا نشان بھی ہے اور نظم و ضبط کی تربیت بھی۔ وہ اللہ سے روحانی اتصال کا مقام بھی ہے اور روزمرہ کی زندگی میں حرکت و عمل کا سبق بھی۔ نماز اپنی شکل کے اعتبار سے مخصوص عبادت کا نام ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے تواضع اور توجہ الی اللہ کا۔ اپنے مقابلہ میں کسی کی عظمت تسلیم کرنے کے لئے آدمی زبان سے جو آخری کلمہ بول سکتا ہے وہ یہ کہ وہ کہے " وہ سب سے بڑا ہے " نماز میں بار بار یہ کلمہ (اللہ اکبر) خدا کے لئے بولا جاتا ہے اور اس طرح اپنے مقابلہ میں خدا کی مطلق کبریائی کا لسانی اقرار کیا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر کسی کی بڑائی کے اعتراف کی آخری صورت سجدہ ہے۔ سجدہ سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہوسکتی جس سے آدمی دوسرے کی عظمت کا جسمانی اعتراف کرے۔ نماز میں بار بار خدا کے آگے سجدہ کر کے خدا کی بے مثال عظمتوں کا عملی اعتراف کیا جاتا ہے۔ کسی کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنانے کی سب سے زیادہ کامیاب ہیئت جو تصور کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے چہرے کا رخ پوری طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader