آغاز کلام
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف اس شخص کے لئے ہوگی جس نے موجودہ دنیا میں خدا کے دین کو اپنا دین بنایا ہوگا۔ جو کسی دوسرے دین کو اختیار کرے گا، اس کے لئے موت کے بعد آنے والی دنیا میں ناکامی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا دین ہی انسان کے لئے فطری اور حقیقی دین ہے۔ یہ حقیقت ڈر کے لمحات میں کھل جاتی ہے۔ آدمی خواہ کوئی بھی دین اختیار کرے۔ خواہ وہ کوئی بھی سہارا پکڑے، مگر جب انسان کی زندگی کا جہاز کسی بھنور میں پھنستا ہے، جب اس پر کوئی نازک لمحہ آجاتا ہے، اس وقت اس کو تمام چیزیں بھول جاتی ہیں۔ اس وقت وہ بے اختیار ہو کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ تجربہ جو کبھی نہ کبھی ہر شخص کی زندگی میں گزر رتا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی دین صرف خدا کا دین ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اسی کو اپنی زندگی کا دین بنائے۔ اس کے سوا وہ جس دین کو بھی پکڑے گا وہ وقت آنے پر اسی طرح بے حقیقت ثابت ہوگا جیسے آج نازک لمحات میں تمام چیزیں بے حقیقت ثابت ہو جاتی ہیں۔ آج کے حالات میں فطرت کی پکار آئندہ آنے والی مستقل دنیا کا ایک اشارہ ہے۔ وہی شخص کامیاب ہے جو اس اشارہ پر کان لگائے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنالے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader