Urdu book · اسلامی تعلیمات

آغاز کلام

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جس کے سہارے وہ زندہ ہو۔ جس کو وہ سب سے زیادہ قابل لحاظ سمجھے۔ جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھے۔ جس کے لئے دوڑ دھوپ کرے۔ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے، اس کی تمنائیں اور اس کی حسرتیں سب سے زیادہ اس سے وابستہ ہوں۔ اس کو پا کر وہ سب سے زیادہ خوش ہو اور اس کے چھننے کا ڈر ہو تو وہ سب سے زیادہ غمگین ہو جائے۔ یہی دین ہے۔ اس معنیٰ میں ہر شخص کا ایک دین ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے ایک دین سے خالی نہیں۔ آدمی جس چیز کو اپنا ”دین“ بنائے اسی کے مطابق اس کی پوری زندگی بنتی ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات، اس کا لین دین، اس کے انسانی تعلقات، اس کی سرگرمیاں اور کاروبارروائیاں سب اسی کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ اس کام کو کرتا ہے جس سے اس کا مقصود ملنے والا ہو، اس کام سے دور بھاگتا ہے جس سے اپنے مقصود کو نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہو۔ یہی دین اس کا حاکم ہوتا ہے۔ سوتے جاگتے ہر حال میں وہ اسی دین کو پکڑے رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی گوشہ اس کے اثر سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ دین خدا کا بھی ہو سکتا ہے اور غیر خدا کا بھی۔ موجودہ دنیا میں یہی امتحان ہے کہ آدمی کون سا دین اختیار کرتا ہے۔ خدا کا یا غیر خدا کا۔ یہاں ہر شخص کو آزادی ہے۔ یہاں غیر خدا کے دین کو پکڑ کر بھی آدمی عزت اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ مگر یہ کامیابی بالکل وقتی ہوگی۔ وہ زیادہ سے زیادہ موت تک آدمی کا ساتھ دے گی۔ اس کے بعد اگلی مستقل دنیا میں وہ اس حال میں اٹھے گاکہ وہ بالکل خالی ہاتھ ہوگا۔ اگلی دنیا میں خدا اپنے قدرت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہوگا۔ اس لئے وہاں عزت اور کامیابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page