Urdu book · اسلامی تعلیمات

آدمی کا امتحان

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر عائد ہوتا ہے، خواہ وہ ایک اچھے بول کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ ایسے ہر موقع پر خدا اپنی خاموش زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے حکم کی تعمیل میں اس آدم کے سامنے جھک جاؤ۔ اب جو لوگ فرشتوں کی روش کو اختیار کریں اور اپنے بارے میں خدا کے حکم کو پہچان کر اپنے آپ کو اس کے آگے ڈال دیں، وہ خدا کے وفادار بندے ہیں ۔ وہ ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔ اور جو لوگ ابلیس کا طریقہ اختیار کریں اور اپنی بڑائی کی خاطر دوسروں کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوں، وہ خدا کے باغی لوگ ہیں۔ وہ ابلیس کے ساتھ جہنم میں ڈال دئے جائیں گے تاکہ وہاں ابدی طور پر جلتے رہیں : قال فبما اغويتني لا قعدن لهم صراطك شیطان بولا : جیسا تو نے مجھے بدراہ کیا ہے، میں المستقيم ۔ ثم لآتينهم من بين ايديهم تیری سیدھی راہ پر انسانوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔ ومن خلفهم وعن ايمانهم وعن شمائلهم میں ان پر آؤں گا آگے سے اور پیچھے سے ، دائیں ولا تجد اكثرهم شاكرين قال اخرج سے اور بائیں سے ۔ اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار منها مذءوماً مدحوراً لمن تبعك نہ پائے گا۔ اللہ نے کہا : نکل یہاں سے ذلیل منهم لاملن جهنم منكم اجمعين وخوار ہوکر ۔ ان میں سے جو کوئی تیری راہ (اعراف ۱۸-۱۶) چلانو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ انسان خدا کا بندہ ہے۔ اس کو اصل سجدہ خدا ہی کو کرنا ہے۔ مگر دنیا کی زندگی میں وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے مقابلہ میں بار بار اس پر کسی نہ کسی کا حق آتا ہے اور بار بار بار خدا کا حکم ہوتا ہے کہ یہاں تم اس ”آدم“ کے سامنے جھک جاؤ۔ یہی آدمی کا اصل امتحان ہے ۔ خدا کو سجدہ کرنے کے لئے آدمی آسانی سے تیار ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page