آدمی کا امتحان
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جہاں اس کو کسی انسان کا اعتراف کرنا ہو، جہاں کسی انسان کے سامنے جھکنے کا سوال ہو وہاں فوراً اس کے اندر ابلیس والی نفسیات جاگ اٹھتی ہیں ۔" میں اس سے بہتر ہوں، میں کیوں اس کے سامنے جھکوں “ یہ احساس شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ جس خدا کو سجدہ کر رہا ہوتا ہے، اس خدا کے حکم کے باوجود " آدم " کے آگے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان ایک معاملہ پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا ناحق پر ۔ جو شخص حق پر ہے وہ گو یا دوسرے شخص کے لئے وقت کا " آدم " ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان اس صورت حال کا پیدا ہونا، ہی خدا کا یہ حکم آ جاتا ہے کہ میرے بنائے ہوئے اس آدم کے سامنے میری خاطر جھک جاؤ۔ اب جو شخص اپنے حریف کے حق کو مانتے ہوئے اس کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دے، اس نے فرشتوں کی پیروی کی ۔ اور جس شخص کے لئے اس کی " میں " حق کے اعتراف میں مانع ہو جائے ، جو اس ذہن کے تحت حق دار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے کہ میری پوزیشن مضبوط ہے، یہ شخص میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، اس نے ابلیس کی پیروی کی ۔ خدا کے سامنے سجدہ کرنا اس کی نجات کا سبب نہیں بن سکتا۔ خدا کے آگے سجدہ صرف اس شخص کا معتبر ہے جو خدا کے حکم کی تعمیل میں اس کے بنائے ہوئے " آدم “ کے سامنے بھی جھکنے پر راضی ہو جائے۔ جو شخص یہ کہے کہ میں خدا کے لئے سجدہ کروں گا مگر آدم کے سامنے نہیں جھکوں گا، وہ ابلیس کا بھائی ہے۔ اس کے سجدہ کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس نے آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کر کے کبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور جو اپنے اندر کبر کی نفسیات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader