Urdu book · اسلامی تعلیمات

آدمی کا امتحان

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

کو کچھ دینے کا سوال ہوتا ہے۔ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کے مقابلہ میں حق و انصاف کا رویہ اختیار کرنے کے لئے اس کو اپنی نفسیاتی گرہوں کو توڑنا پڑتا ہے۔ جب وہ کسی حریف کی عزت کرتا ہے تو یہ اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ چیزیں خدا کے سجدہ کے مقابلہ میں ”آدم“ کے آگے جھکنے کو کسی انسان کے لئے بے حد مشکل بنا دیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصلی امتحان جہاں ہو رہا ہے، وہ یہی مقام ہے۔ یہی وہ اصل قربانی ہے جو ہرایک کو اپنے خدا کی رضا کے لئے دینی ہے۔ جو اس قربانی کے لئے تیار نہ ہو وہ کبھی خدا کا محبوب بندہ نہیں بن سکتا۔ خواہ وہ بظاہر خدا کو سجدہ کرنے والا ہو یا سجدہ نہ کرنے والا۔ کسی شخص کو جو بڑائی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ اس لیے کسی شخص کی بڑائی کا اعتراف در اصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے، اور اس کی بڑائی کا انکار خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا انکار ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے آدمی کے آگے جھکتا ہے تو وہ حقیقتاً کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں اس کے آگے جھک رہا ہے نہ کہ خود اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔ سب سے بڑی حقیقت اللہ رب العلمین ہے۔ اس ذات کو پالینا ہی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی جہاں اپنے رب کو پاتا ہے وہ ”سجدہ“ ہے، مگر سجدہ اسی وقت حقیقی سجدہ بنتا ہے جب کہ سجدہ سے باہر کی دنیا میں آدمی تواضع اور جھکاؤ کی زندگی اختیار کر چکا ہو۔ ایسا شخص اپنی نفسی حالت کے اعتبار سے اس قابل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page