آدمی کا امتحان
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
حق دار انسان کے سامنے جھک جائے۔ جو شخص خدا کے سامنے سجدہ کرے اور جب انسان سے معاملہ پڑے تو اس کا حق نہ پہچانے اور گھمنڈ اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے وہ خدا کا ساجد بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ جہاں اس کا خدا اس کے ساجد ہونے کا امتحان لے رہا تھا وہاں وہ اپنے کو ساجد ثابت نہ کر سکا۔ خدا کو سجدہ کرنے کے لئے آدمی آسانی سے تیار ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ خدا کے مقابلہ میں کسی کے اندر ”میں اس سے بڑا ہوں“ کی نفسیات نہیں ہوتی۔ جب کہ انسان کے مقابلہ میں طرح طرح کی نفسیاتی گرہیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں جو ایک انسان کے لئے دوسرے انسان کے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ خدا کسی انسان کا حریف نہیں۔ جب کہ ایک انسان بہت جلد دوسرے انسان کو اپنا حریف سمجھ لیتا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں جھکنے کو اپنے لئے عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ خدا کے مقابلہ میں آدمی کی نفسیات احتیاج کی نفسیات ہوتی ہے۔ خدا صرف دینے والا ہے۔ اس کو کسی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ مگر انسان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں جب ایک شخص دوسرے شخص کے سامنے جھکتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہ کچھ دیتا ہے۔ کبھی اچھے الفاظ، کبھی دوسرے کی حقانیت کا اعتراف، کبھی اس کا مالی یا مادی حق ادا کرنا، کبھی کسی کو افضل پا کر خود پیچھے ہٹ جانا اور اس کو آگے بڑھانا، کبھی کسی کی کمزوری پر قابو پالینے کے باوجود اس کی عزت کی خاطر درگزر کرنا۔ کبھی ایک شخص کی اتفاقی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہوتے ہوئے انصاف کی خاطر چپ رہ جانا۔ کبھی سامنے کے ملتے ہوئے نفع کو چھوڑ کر صرف اصول کی خاطر بے نفع والے آدمی کا ساتھ دینا، غرض ہر بار جب کسی کے لئے دوسرے آدمی کے سامنے جھکنے کا سوال ہو تو یہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader