Urdu book · اسلامی زندگی

اجتماعی آداب

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلافات کو تعلقات کے بگاڑ تک نہ لے جانا امام طبری نے روایت کیا ہے کہ ایک بار حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد بن وقاص میں کسی ذاتی معاملہ میں اختلاف ہو گیا ۔ اس کے بعد کسی شخص نے حضرت سعد کے سامنے حضرت خالد کا ذکر برے الفاظ میں کرنا چاہا۔ حضرت سعد نے فوراً اس آدمی کو روک دیا اور کہا : اس کو چھوڑ دو، میرے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے وہ میرے اور ان کے دینی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا (مه، فان ما بیننا لم یبلغ دیننا، مجمع الزوائد) متحد رہنا اور اقدام میں پہل نہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ہجرت کے دسویں سال نجران (یمن) بھیجا۔ انھوں نے وہاں اسلام کی تبلیغ کی۔ خالد بن ولیدؓ واپس ہوئے تو ان کے ساتھ بنی حارث بن کعب کے لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جاہلیت کی جنگوں میں تم کس طرح ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ انھوں نے کہا: ہم کسی پر غلبہ حاصل نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں، مگر جو تم سے جنگ کرتا تھا، تم اس کے اوپر غالب رہتے تھے۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول جو ہم سے جنگ کرتا تھا ہم اس پر غالب رہتے تھے۔ ہم متحد رہتے تھے کبھی متفرق نہیں ہوتے تھے۔ اور کسی کے اوپر ظلم سے آغاز نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا (کنا نغلب من قاتلنا یا رسول الله، انا كنا مجتمع ولا نفترق ولا ننبأ أحداً ا لظلم ، قال صدقتم ، ابن ہشام ، جزوثانی، ۱۳۳) بغض آدمی کے دین کو کھا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغض مونڈنے والی چیز ہے۔ میں یہ نہیں کہتا وہ بال کو مونڈتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک مومن نہ بنو اور مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ (البغضارھی الحالقۃ، لا اقول تحلق الشعر، ولكن تحلق الدین۔ والذی نفسی محمد بید ، لا تد خلوا الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا، جامع بیان العلم، جز ثانی، صفحہ ۱۵۰) بحث و جدال نیکی کو مٹا دیتا ہے عوام بن حوشب نے کہا: لوگو دین میں جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ دین میں جھگڑا کرنے سے آدمی کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں (عن العوام بن حوشب قال اياكم والخصومات في الدين فانها تحبط الاعمال ، ابن عبدالبر جامع بیان العلم وفضلہ ، جزءثانی، صفحہ ۹۳) آپس کا اختلاف نہ ہو تو دشمن کا کوئی خطرہ نہیں عن عوف بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه عوف بن مالک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ وسلم لن يجمع الله على هذه الأمة سيفين سيفاً اس امت پر کبھی دو تلواروں کو جمع نہیں کرے گا۔ اس کی منها بسيفاً من عدوها (ابوداؤد) اپنی تلوار اور اس کے دشمن کی تلوار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page