اجتماعی آداب
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان کی ہر مصیبت اپنی لائی ہوئی ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز رات کو باہر نکلے۔ آپ انصار کی ایک بستی بنو معاویہ کی مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور اس کے بعد غیر معمولی طور پر لمبی دعا فرمائی۔ حضرت خباب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے خدا کے رسول، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج کی رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی نماز اس سے پہلے میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ رغبت اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اللہ عزوجل سے تین چیزیں مانگیں۔ اللہ نے مجھ کو دو چیزیں دے دیں اور ایک سے انکار فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے مانگا کہ ہم کو اس طرح ہلاک نہ کرے جس طرح پچھلی امتوں کو ہلاک کیا تھا۔ اللہ نے اس کو قبول فرمایا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر ہمارے علاوہ کسی دشمن کو غالب نہ کرے ۔ اللہ نے اس کو قبول فرمایا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ایسا نہ کرے کہ ہم کو گروہوں میں تقسیم کر دے ( اور ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھائے) اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ سألت ربی عن وجل ثلاث خصال فاعطانی اثنتین ومنحتی واحدة ۔ سألت ربی ان لا یہلکنا بما اهلك به الامم فاعطانیھا۔ وسألت ربی ان لا یظھر علینا عدوا من غیرنا فا عطانیھا وسألت ربی ان لا یلبسنا شیعا فیذیق بعضہم بأس بعض) فمنعنيھا، رواه الترندی) سخت بات پر اشتعال نہ ہونا خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک روز لوگوں کے سامنے کہا کہ تم میں سے جو شخص میرے اندر ٹیڑھ دیکھے تو وہ اس کو سیدھا کر دے۔ یہ سن کر ایک آدمی اٹھا اور کہا : خدا کی قسم اگر ہم تمھارے اندر ٹیڑھ دیکھیں گے تو اس کو ہم اپنی تلوار سے سیدھا کر دیں گے۔ حضرت عمر رض نے فرمایا : اس خدا کا شکر ہے جس نے امت محمد میں ایسے لوگ بنائے جو عمر کی ٹیڑھ کو تلوار سے سیدھا کر دیں (خاطب عمر بن الخطاب اصحابه ذات يوم فقال: من وجد فی اعوجاجا فليقومه، فنهض رجل وقال : والله لو وجدنا فيك اعوجاجا لقومناه بسيفنا - فقال عمر: الحمد لله الذی جعلنی فی امة محمد من يقوم اعوجاج عمر بالسیف) اجتماعی زندگی ہر حال میں ضروری ہے عن ابي الدرداء قال سمعت رسولُ الله صلى الله عليه حضرت ابو الدرداء رض کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی وسلم يقول ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جس بستی یا جنگل میں تقام فيهم الصلوة الا استحوذ عليهم الشيطان تین آدمی ہوں اور وہاں باجماعت نماز نہ ہوتی ہو تو عليكم بالجماعة فانما يأكل الذئب من الغنم ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔ اس لئے جماعت کو ضروری القاصية وان ذئب الانسان الشيطان اذا خلا به سمجھو۔ بھیڑیا اکیلی بکری کو کھا جاتا ہے اور آدمیوں کا اكله (ترغيب وترھیب) بھیڑیا شیطان ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader