Urdu book · اسلامی زندگی

اجتماعی آداب

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

تم نے اس کو بہت سامان دے رکھا ہو تو اس سے کچھ واپس نہ لو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو فوراً کہہ اٹھے: امرأة خاصمت عمر فخصمته، ایک عورت عمر سے جھگڑ پڑی اور غالب ہو گئی (مصنف عبد الرزاق) دوسری روایت میں ہے: اللهم عفوا، كل الناس افقه من عمر حتی البهائم (خدایا مجھے معاف فرما۔ تمام لوگ عمر سے زیادہ جانتے ہیں حتی کہ بوڑھیاں بھی) اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ منبر پر چڑھے اور اعلان کیا کہ میں اپنا فیصلہ واپس لیتا ہوں۔ جو شخص جتنا چاہے مہر دے۔ اس کو اپنے معاملہ کا اختیار ہے (فتح الباری) البتہ بطور نصیحت فرمایا کہ زیادہ بہتر اگر کرامت و شرافت کی علامت ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ حالاں کہ آپ نے عام طور پر مہریں چار سو درہم تک رکھی ہیں (مسند احمد، ترمذی) آپس کی لڑائی اسلام کے خلاف ہے من حمل علینا السلاح فلیس منا (حدیث) جس نے ہمارے اوپر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں۔ اللہ کے حوالے کر کے صبر کر لینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے امیر معاویہ کے بعد یزید کی خلافت پر بیعت کی تھی۔ بیعت کے وقت انھوں نے فرمایا: اگر یہ خیر ہے تو ہم اس سے راضی ہیں۔ اور اگر یہ شر ہے تو ہم نے اس پر صبر کیا۔ (ان کان خیراً فرضينا وان كان شراً فصبرنا) ٹکراؤ کے باوجود ایک دوسرے کا احترام اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں وہ اگر چہ ایک ناپسندیدہ فعل تھا۔ تاہم یہ اونچے انسانوں کی لڑائیاں تھیں، نہ کہ ذلیل طبیعت کے لوگوں کی۔ عین جنگ کے وقت کے بہت سے قصے تاریخوں میں درج ہیں جو ان کی طبیعت کی بلندی اور بہادری کو بتاتے ہیں۔ مثلاً حضرت علی اور امیر معاویہ کی جنگوں میں یہ حال تھا کہ دونوں فریق دن کے وقت ایک دوسرے سے لڑتے اور رات کے وقت ایک لشکر کے لوگ دوسرے لشکر میں جاکر مقتولین کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتے (البدایہ والنہایہ، جلد ۸، صفحہ ۲۲۔ تہذیب تاریخ ابن عساکر، جلدا، صفحہ ۴۷) اسی طرح حضرت حسین کی لڑائی جو یزید بن معاویہ کی فوجوں سے ہوئی، اس میں یہ حال تھا کہ دونوں فوجیں جو ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ تھیں جب نماز کا وقت آتا تو سب مل کر نماز پڑھتے۔ ایک فوج کا سردار دوسری فوج کے سپاہیوں کی امامت کرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ حضرت حسین رہما امام ہوتے اور فریق مخالف ان کے پیچھے صف باندھ کر نماز ادا کرتا دوستی میں بھی اعتدال، دشمنی میں بھی اعتدال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دوست سے اعتدال کے ساتھ دوستی کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ تمھارا دشمن بن جائے۔ اور اپنے دشمن سے اعتدال کے ساتھ دشمنی کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی دن وہ تمھارا دوست بن جائے (حبیب حبیبك هوناً ما عسى ان يكون بغيضك يوماً ما ابغض بغيضك هوناً ما عسى ان يكون حبيبك يوماً ما)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page