Urdu book · اسلامی زندگی

اجتماعی آداب

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات کا لحاظ ضروری خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کے سب سے بڑے سپہ سالار اور فاتح تھے۔ مگر شہریہ میں عین فتوحات کے زمانہ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر دیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ خالد بن ولید رضی اللہ جرأت اور دلیری کی وجہ سے بعض اوقات ایسے اقدام کر دیتے جس کے لئے پہلے سے پوری تیاری نہ کی گئی ہو ۔ چنانچہ محاصرہ حمص (سلسلہ) میں جب کہ ہر قل اہل جزائر سے متفق ہو کر حمص پر حملہ آور ہوا تو خالد بن ولید مرکز خلافت کی ممانعت کے باوجود قلعہ سے باہر نکل آئے اور فوری جنگ پر تیار ہو گئے۔ اطراف و جوانب سے جو اسلامی کمک آنے والی تھی، اس کا انتظار نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس اقدام کو سخت ناپسند فرمایا ۔ شاہ ولی اللہ صاحب اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "اگر چہ اس لڑائی میں اللہ کا فضل شامل رہا اور تائید الہی سے فتح حاصل ہوئی ۔ (مگر اس قسم کا اقدام احتیاط کے خلاف تھا) کیونکہ ایسی صورتوں میں بلا امداد لئے ہوئے جرات کر کے جنگ میں کود پڑنا بعض اوقات شکست کا باعث ہوتا ہے، (ازالة الخفا) معاملہ کے وقت راز داری کی قسم ہجرت کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے راستہ کی رہنمائی کے لئے قبیلہ بنو الدیل کے ایک مشرک کی خدمات اجرت پر حاصل کیں ۔ اس کا نام عبد اللہ بن اریقط تھا اور وہ حجاز کے راستوں کا ماہر تھا۔ اس شخص نے عرب دستور کے مطابق پانی کے پیالے میں انگلیاں ڈال کر قسم کھائی کہ وہ راز داری کے ساتھ کام کرے گا۔ اس نے معروف شاہراہ کو چھوڑ کر ساحلی راستہ سے آپ کو مدینہ پہنچایا (قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین) جواب نہ دینا بہادری کے خلاف نہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ غزوہ احد کے بعد جب مسلمانوں کی جماعت منتشر ہو گئی تو قریش کے سردار ابو سفیان نے قریب آکر آواز دی : کیا تم میں محمد محمد موجود ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ عنہ نے فرمایا ” جواب مت دو“ اس کے بعد ابو سفیان نے آواز دی ” کیا تم میں ابن ابی قحافہ موجود ہیں“ آپ نے فرمایا ” چپ رہو، پھر ابو سفیان نے پکار کر کہا ”کیا تم میں ابن خطاب موجود ہیں“۔ آپ نے فرمایا چپ رہو، کوئی جواب مت دو۔ جب تین بار جواب نہیں ملا تو ابو سفیان نے کہا ”بلا شبہ یہ سب مارے گئے، اگر وہ زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے“ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر ضبط نہ کر سکے اور فرمایا ” اے اللہ کے دشمن تو نے جھوٹ کہا ۔ اللہ تجھ کو ذلیل ہونے کے لئے زندہ رکھے (بخاری) سوال بدل کر حقیقت معلوم کرلی مسلمان جنگ بدر کے لئے کوچ کر رہے تھے۔ راستہ میں مکہ کے دو آدمی نظر آئے ۔ ایک قریشی اور دوسرا غلام مسلمانوں نے پکڑنے کی کوشش کی۔ قریشی بھاگ گیا اور غلام کو گرفتار کر لیا گیا۔ لوگوں نے غلام سے مکہ کی فوج کی تعداد پوچھی جو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بڑھ رہی تھی۔ اس نے جواب میں کہا : ان کی تعداد بہت ہے اور ان کی طاقت بڑی ہے“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page