انفاق
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
نے فرمایا: "ہاں اگر تم صبر کرنے والے ہو، تمھاری نیت رضائے الہی کو پانا ہو، تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مٹنے والے نہ ہو۔ الایہ کہ تمھارے اوپر قرض ہو۔ کیوں کہ جبریل نے مجھ کو اسی طرح بتایا ہے۔" (مسلم) انفاق اپنے آپ کو آگ سے چھڑانے کے لئے عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: اتقی النار ولو بشق تمرۃ فمن لم یجد، فبكلمة طيبة آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو سادور جو یہ بھی نہ پائے تو ایک پاکیزہ بات کے ذریعہ مسلمان کے لئے ایک مسلمان درہم و دینار سے زیادہ محبوب ہوتا ہے طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر رض سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا : اتی علينا زمان وما یری احد منا انه احق بالدينار ہمارے اوپر ایسا زمانہ گزر رہا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص والد رهم من اخیہ المسلم۔ دانانی زمان نہ تھا جو اپنے بھائی کے مقابلے میں اپنے آپ کو درہم و دینار کا الدینار والد رهم احب الیناما اخينا المسلم زیادہ مستحق سمجھتا ہو۔ اور اب میں ایسے زمانہ میں ہوں کہ درہم و دینار ہمارے لئے اپنے بھائی سے زیادہ محبوب بن گئے ہیں۔ اس وقت انفاق جب کہ اسلام بے کسی کی حالت میں ہو ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوبکر رض ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ انھوں نے یہ پورا کا پورا مال اسلام کی راہ میں خرچ کر دیا۔ اسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے مال نے مجھے کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابو بکر رض کے مال نے پہنچایا (قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین) زیادتی کی حالت میں بھی احتیاط کے ساتھ خرچ کرنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رض کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رض کے پاس سے گزرے وہ بڑے برتن میں پانی لے کر بڑے تکلف کے ساتھ وضو کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ما هذا السرف يا سعد (اے سعد! یہ کیا فضول خرچی ہے) حضرت سعد رض نے کہا : کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا : نعم وإن كنت على نهر جار (احمد) ہاں۔ خواہ تم بہنے دریا کے کنارے کیوں نہ ہو حقوق کی ادائیگی میں عجلت عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اعطوا الاجیر اجرہ قبل ان یجف عرقه (ابن ماجه) مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دو نصیحت مال سے زیادہ قیمتی ہے عن ابی عمیر الطوری ابان ابن سلیم قال : كلمة حكمة لك من اخيك خير لك من مال يعطيك لان المال يطغيك و الكلمة تهديك تمهيد (جامع بيان العلم، جز اول، صفحه ۵۳) تمھارا بھائی تم کو حکمت کا ایک کلمہ دے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ تم کو مال دے۔ کیوں کہ مال تم کو سرکش بناتا ہے اور حکمت کی بات تم کو راہ دکھاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader