Urdu book · اسلامی زندگی

انفاق

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

پیشے کی بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا جہالت ہے غزوہ بدر میں مشرکین کی فوج کی سرداری ابو جہل کے ہاتھ میں تھی۔ انصار کے دو نوجوان معوذ بن عفراء اور معاذ بن عفراء نے باہم طے کیا کہ وہ ابو جہل کو قتل کریں گے۔ دونوں بھائی مشرکین کی صفوں میں گھس گئے اور اپنی جان پر کھیل کر ابو جہل کو قتل کر ڈالا۔ عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ آخر وقت میں جب کہ ابو جہل کو معلوم ہوا کہ اس کو قتل کرنے والے مدینہ کے باشندے ہیں تو ابو جہل نے کہا: لو غیر اکارتلنی (بخاری و مسلم) کاشتکار کے علاوہ کسی اور نے کاش مجھ کو قتل کیا ہوتا مدینہ کے لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر کاشتکاری تھا۔ ابو جہل نے کاشتکاری کرنے والوں کو حقیر سمجھا۔ دولت اور اقتدار سے بغض و عداوت پیدا ہوتا ہے مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کا مال غنیمت آیا وہ اس کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔ عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں رو رہے ہیں۔ اللہ نے آپ کو فتح دی آپ کو آپ کے دشمنوں پر غالب کیا۔ ان کے اموال آپ کے قبضہ میں دے کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ عمرؓ نے فرمایا: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے لا تفتح الدنیا علی احد الا التقی اللہ عن وجل بینہم کہ جب بھی کسی کے اوپر دنیا کھولی جاتی ہے تو اللہ قیامت العداوة والبغضاء الی یوم القیامۃ، وانا اشفق تک کے لئے ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے۔ من ذلک (احمد، بیہقی، بنار) اور میں اسی سے ڈر رہا ہوں ۔ خوش حالی زیادہ سخت آزمائش ہے ابو علی اور بزار نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا نا الفتنۃ السراء اخوف علیکم من فتنة الضراء میں تمھارے بارے میں خوش حالی کے فتنے سے زیادہ ڈرتا انکم ابتليتم لفتنة الضراء فصبرتم دان الدنیا ہوں بہ نسبت تنگ حالی کے فتنے کے ۔ تم تنگ دستی کے فتنے حلوة خضر کا میں مبتلا کئے گئے اور تم نے صبر کیا۔ مگر دنیا بڑی شیریں اور سرسبز ہے۔ طبرانی نے عوف بن مالک کے واسطہ سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : تصب علیکم الدنیا صباحتی لا یزیفکم بعد ان دنیا تمھارے اوپر بہہ پڑے گی۔ یہاں تک کہ میرے بعد زغتم الاہی تمھارے اندر کجی آئی تو دنیا کے سوا کسی اور سبب سے نہیں آئے گی۔ تین چیزیں ہر مسلمان پر حرام ہیں کل المسلم علی المسلم حرام عرضہ مالہ و دمہ (حدیث) مسلمان پر مسلمان کی آبرو اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page