حکمت اسلام
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
عبداللہ بن رواحہ) شہید ہو گئے۔ اس کے بعد خالد بن ولید مسلمانوں کی فوج کے سردار مقر ر ہوئے۔ انھوں نے نئی فوجی تدبیر سے حملے کئے اور رومیوں پر رعب طاری کر دیا۔ وہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت خالد رضہ نے اس کے بعد آگے بڑھنا مصلحت کے خلاف سمجھا اور ایک ہزار بھی ہوئی فوج کو لے کر مدینہ واپس آ گئے۔ مدینہ میں کچھ مسلمانوں نے ان کی طرف خاک پھینکی اور کہا: یا فرار ! فررتُم فی سبیل اللہ (اے بھاگنے والو! تم اللہ کے راستے سے بھاگے ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: وہ بھاگنے والے نہیں ہیں۔ انشاء اللہ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ (ولیسوا بالفرار ولكنهم الكر ان شاء اللہ تعالیٰ، رواہ احمد بن حنبل) اسلام میں علم کی اہمیت بدر کی جنگ میں ستر مشرکین گرفتار ہوئے۔ ان میں سے جو لوگ فدیہ نہیں دے سکتے تھے، ان کا فدیہ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ انصار میں سے دس آدمیوں کو لکھنا سکھا دیں۔ زید بن ثابت انصاری نے اسی طریقہ پر کتابت سیکھی۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب مقرر ہوئے اور انھوں نے بڑی عمر میں کئی اور زبانیں سیکھیں۔ وہ چھ زبانیں جانتے تھے۔ غصہ کا علاج یہ ہے کہ غصہ کے وقت چپ ہو جائے امام احمد نے عبداللہ بن عباس رضہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وہ چپ ہو جائے ۔ آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا (اذا غضب احدكم فليسكت، قالها ثلاثاً) معاملات میں حکمت کا طریقہ اختیار کرنا فتح مکہ کے موقع پر انصار کے دستہ کے سردار سعد بن عبادہ رضہ تھے۔ جب وہ مکہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے بلند آواز سے کہا: آج گھمسان کا دن ہے۔ آج حرمت حلال کی جائے گی ۔ آج اللہ نے قریش کو نیچا کر دیا۔ ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ سعد بن عبادہ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سن کر فرمایا: نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہے۔ آج اللہ قریش کو عزت دے گا۔ آج اللہ کعبہ کو عظمت دے گا۔ ربل اليوم يوم الم رحمة اليوم یعنی اللہ قريشاً وتعظم الله الكعبة، فتح الباری، جلد ۸، صفحه ۷) اس کے بعد آپ نے سعد بن عبادہ سے انصار کے دستہ کا جھنڈا لے لیا اور اس کو ان کے بیٹے قیس کو دے دیا۔ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں کہ سعد بن عبادہ کو کوئی احساس نہیں ہوا کیونکہ انھوں نے دیکھا کہ جھنڈا اب بھی انھیں کے لڑکے کے ہاتھ میں ہے (ورأى ان اللواء لم يخرج عن سعد اذ صار الى ابنه، زاد المعاد) دین میں تنگی نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader