حکمت اسلام
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے۔ اور اگر وہ گناہ کی بات ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے (ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم في امرين قط الاختار اليسر هما، ما لم يكن اثماً ۔ فان كان اثما كان ابعد الناس، مسلم) ناکافی تیاری کے ساتھ اقدام سے پرہیز خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے جہاد کا ارادہ کیا تو صحابہ کو جمع کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی رائیں دیں۔ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا " اے خلیفہ رسول ! ہم آپ کی مخالفت کرنے والے نہیں ہیں اور نہ آپس میں اختلاف کرنے والے ہیں۔ جب آپ نکلنے کے لئے کہیں گے تو ہم نکل پڑیں گے اور جب حکم دیں گے تو ہم اس کی اطاعت کریں گے" ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی باتوں سے خوش ہوئے۔ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ رومیوں سے جہاد کے لئے نکلیں۔ لوگ جمع ہونا شروع ہوئے، یہاں تک کہ بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک روز لشکر گاہ میں آئے۔ آپ کے ہمراہ دوسرے کئی اصحاب تھے۔ جمع ہونے والوں کی تعداد اگر چہ کم نہیں تھی۔ مگر رومیوں سے مقابلہ کے لئے آپ کو وہ کم نظر آ ئیں۔ آپ نے دوبارہ مشورہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس تعداد کو رومیوں سے مقابلہ کے لئے کافی نہیں سمجھتا (ما ارضى هذه العدة للجموع بني الاصفر کنز العمال جلد ۳) چنانچہ کوچ کو روک کر خط لکھا گیا تا کہ ان کی مدد سے تیاری مکمل کی جائے۔ فریق مخالف سے وہی مطالبہ کرنا جو اس کے لئے قابل قبول ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کی طرف اپنا مکتوب روانہ کیا تو انھوں نے باہم مشورہ کیا اور تین آدمیوں کا وفد مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ تحقیق حال کرے ۔ یہ شرحبیل بن ودائع، عبد اللہ بن شرحبیل اور جبار بن فیض تھے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد شرحبیل نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ معاملہ بڑا سخت ہے۔ خدا کی قسم اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے اور ہم اس کی بات کو رد کرتے ہیں تو تمام عرب میں ہم پہلے لوگ ہوں گے جو اس کی نظروں میں کھلیں گے۔ وہ اور ان کے ساتھی ہم کو بھی معاف نہ کریں گے" دونوں ساتھیوں نے کہا : پھر تمھاری کیا رائے ہے۔ شرحبیل نے کہا : میرا خیال ہے کہ میں ان سے مصالحت کی بات کروں کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو کبھی زیادہ بڑی چیز کا حکم نہیں دیتے ۔ (اری ان اکلمه فانی اری رجلا لا يحكم شططا ابدا) البدایہ والنہایہ ، جلدہ ، صفحه ۵۵) لوگوں کے ساتھ نرمی اور برداشت کا رویہ اختیار کرو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مدینہ آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا ۔ لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع فرمایا اور کہا کہ اسے چھوڑ دو۔ البتہ جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دو تا کہ صفائی ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا : تم سختی کے لئے نہیں بھیجے گئے ہو، تم اس لئے بھیجے گئے ہو کہ آسانی پیدا کرو ۔ (انما بعثتم ميسرين ولم تبحثو معسرين ، بخاری)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader