حکمت اسلام
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
بچائے گا، من رد عن عرض اخیہ رد اللہ عن وجہہ النار یوم القیامة) صدقہ ہر آدمی پر فرض ہے کُلُّ سُلَامَی مِنَ النَّاسِ عَلَیْہِ صَدَقَةٌ کُلَّ یَوْمٍ تَطْلُعُ فِیْہِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَیْنَ اثْنَیْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِیْنُ الرَّجُلَ فِی دَابَّتِہِ فَتَحْمِلُہُ عَلَیْہَا اَوْ تَرْفَعُ لَہُ عَلَیْہَا مَتَاعَہُ صَدَقَةٌ وَالْکَلِمَةُ الطَّیِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِکُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِیْہَا اِلَی الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِیْطُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَةٌ (بخاری و مسلم) آدمی کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہے ہر دن جب کہ سورج طلوع ہو۔ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے۔ آدمی کو سواری پر چڑھنے میں یا سامان اتارنے میں مدد کرنا صدقہ ہے۔ ایک اچھا بول صدقہ ہے۔ راستہ سے تکلیف کی ہر چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے۔ اللہ کا محبوب بندہ وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو طبرانی اور ابن حبان نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور ہم اس طرح چپ تھے جیسے کہ ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں، ہم میں سے کوئی بھی بول نہیں رہا تھا اتنے میں کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے پوچھا: اللہ کے بندوں میں سے کون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا: جو ان میں سے اخلاق میں اچھے ہیں (احسنہم خلقا، الترغیب والترہیب جلد ۴) بندوں کے حقوق ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند دن پہلے خلاف معمول ایک لمبی تقریر فرمائی۔ آخر میں آپ نے کہا: میں اللہ کے یہاں اپنا صحیفہ زندگی صاف ستھرا لے کر جانا چاہتا ہوں۔ اگر کسی کا کوئی قرض مجھ پر رہ گیا ہو جس کو میں ادا کرنا بھول گیا ہوں۔ یا غیر ارادی طور پر کسی شخص کو مجھ سے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھ سے اس کا بدلہ لے لے یا مجھے معاف کر دے۔ آپ نے تقریر ختم کر کے انتظار فرمایا مگر کوئی نہ بولا۔ اب ظہر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ آپ نے جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز ظہر کے بعد آپ دوبارہ ممبر پر آئے اور وہی سوال پھر دہرایا کہ میرے ذمہ کسی کا قرض ہو یا مجھ سے کسی کی اہانت ہوئی ہو تو وہ اپنا بدلہ لے لے۔ اب ایک شخص اٹھا اس نے کہا کہ "اے خدا کے رسول! آپ کے اوپر میرا پانچ درہم کا قرض ہے"۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور ان کے پانچ درہم اسی وقت مسجد میں ادا کر دئے گئے۔ ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا خواہ وہ کم زور ہو یا طاقت ور معاویہ بن ابوسفیان نے ضرار صدائی سے کہا کہ اے ضرار، مجھ سے علی کی صفت بیان کرو (یا ضرا رصف لی علیا) اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا اس کے چند جملے یہ تھے: وہ ہمارے اندر ہمارے ایک شخص کی مانند تھے۔ کوئی طاقت ور اپنے باطل میں ان سے امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کمزور ان سے عدل پانے میں مایوس نہ ہو سکتا تھا (کان فینا کحذنا لا یطمع القوی فی باطلہ ولا ییأس الضعیف من عدلہ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader