Urdu book · اسلامی زندگی

حکمت اسلام

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمھارے لئے امان طلب کر لی ہے۔ عکرمہ نے کہا " تم نے"۔ انھوں نے کہا: ہاں میں نے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا: یا تیکم عکرمہ بن ابی جہل مومنا مهاجرا فلا عکرمہ بن ابو جہل مومن اور مہاجر ہو کر آرہے ہیں۔ تم لوگ تسبوا اباہ فان سب المیت یودی الحی ولا يبلغ ان کے باپ کو برا نہ کہنا۔ کیوں کہ مردہ کو برا کہنے سے زندہ الميت کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ مردہ کو نہیں پہنچتی۔ تعلقات میں دوسروں کی عزت کا لحاظ رکھنا ہجرت کا سفر طے کر کے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مدینہ پہنچے تو لوگوں نے بستی سے باہر نکل کر آپ کا استقبال کیا۔ راستوں میں اور چھتوں پر مردوں اور عورتوں اور بچوں کا ہجوم تھا۔ وہ کہہ رہے تھے اللہ اکبر! جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اللہ اکبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے) انصار میں آپس میں اس بات پر نزاع ہونے لگی کہ کون آپ کو اپنے یہاں ٹھہرائے۔ مدینہ میں آپ کے نہائی رشتہ کے لوگ رہتے تھے۔ آپ نے ان کی خاطر کے لئے اولاً انھیں کے یہاں قیام پسند فرمایا۔ آپ نے کہا: انزل اللیلہ علی بنی النجار اخوال عبد المطلب اس وقت میں عبد المطلب کے ماموں بنو نجار کے یہاں ٹھہروں گا لاكرمهم بذلك (البدايه والنہایہ، جلد ۳) تا کہ ان کو میرے ٹھہرنے سے عزت حاصل ہو۔ ابو ایوب انصاری (خالد بن زید نجاری خزرجی) جن کے یہاں آپ ابتدائی چند مہینے ٹھہرے، اسی خاندان بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ مسجد نبوی اور اس کے گرد حجروں کی تعمیر کے بعد آپ اس میں منتقل ہو گئے۔ شبہ پر رائے شیطان کی رائے ہوتی ہے ام المومنین صفیہ بنت حتی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے۔ رات کو میں آپ سے ملنے گئی۔ میں نے آپ سے باتیں کیں پھر واپس آنے کے لئے اٹھی۔ آپ بھی مجھے رخصت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں انصار کے دو آدمی ادھر سے گزرے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا تو چاہا کہ تیز چل کر جلدی سے نکل جائیں۔ آپ نے ان کو آواز دے کر فرمایا: " جلدی نہ کرو۔ یہ میری بیوی صفیہ بنت حتی ہیں " وہ دونوں آدمی بولے " سبحان اللہ ! اے خدا کے رسول ! " آپ نے فرمایا: ان الشيطان يجرى من ابن آدم مجری الدم۔ وانی شیطان آدمی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خشيت ان يقذف في قلوبكما شرا او قال شيئاً اندیشہ ہوا کہ شیطان تمھارے دلوں میں میری طرف سے (متفق علیہ) کوئی برا گمان نہ ڈال دے۔ جس نے دنیا میں اپنے کو چھپایا وہ آخرت میں نمایاں ہوگا بن ابی دنیا نے نقل کیا ہے کہ علی بن ابی طالب نے فرمایا اپنی ذات کو اس طرح چھپادو کہ تمھارا تذکرہ نہ کیا جائے اور خاموشی اختیار کرو۔ تم سلامت رہو گے (وارد شخصک لا تذكرو الصمت تسلم، كنز العمال جلد ۲ صفحه ۱۵۰)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page