اخلاق
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
بہتر اخلاق یہ ہے کہ غصہ نہ کرے ابو العلابرین الشخیر نے روایت کیا ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سامنے سے آیا اور کہا: اے خدا کے رسول ! کون سائل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق ۔ پھر وہ دائیں سے آیا اور پوچھا: اے خدا کے رسول ! کون سائل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق ۔ پھر وہ بائیں سے آیا اور پوچھا اے خدا کے رسول ! کون سائل افضل ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا اخلاق ۔ پھر وہ پیچھے سے آیا اور پوچھا اے خدا کے رسول ! کون سائل افضل ہے ۔ آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مالک لا تفقه حسن الخلق۔ ھوان لا تغضب تم کو کیا ہو گیا کہ تم اچھے اخلاق کو نہیں سمجھتے ۔ وہ یہ ہے کہ ان استطعت (محمد بن نصر المروندی ، کتاب الصلوة ) اگر تم سے ہو سکے تو تم غصہ نہ کرو جنت میں پہنچانے والے اعمال طبرانی نے حمید طویل سے روایت کی ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے۔ کچھ لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: ہمارے ساتھیوں کے لئے کچھ لاؤ۔ اگرچہ روٹی کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: مکارم الاخلاق من اعمال الجنة (الترغيب والترہیب جلد ۲) اچھے اخلاق جنت کے اعمال میں سے ہیں۔ سب کے ساتھ رحم کا برتاؤ سہیل بن عمرو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقام سے گزرے تو آپ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کا پیٹ اس کی پیٹھ سے لگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اتقوا الله في هذه البهائم المعجمة - فاركبوها ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ان پر صالحۃ وكلوها صالحۃ (ابو داؤد) صالح طریقہ سے سواری کرو اور ان کو صالح طریقہ سے کھلاؤ۔ داعی کا اخلاق کیسا ہوتا ہے عمرو بن المرۃ الجہنی نے سنا کہ مکہ میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے۔ وہ اپنی سواری پر بیٹھ کر کے پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ آپ نے فرمایا: ”اے عمرو بن مرہ! میں خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں تمام انسانوں کی طرف ۔ ان کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں ۔ ان کو یہ تعلیم دیتا ہوں کہ خون نہ بہاؤ، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ؛ ایک اللہ کی عبادت کرو، بتوں کو چھوڑ دو، بیت اللہ کا حج کرو، رمضان کے مہینے کے روزے رکھو۔ جس نے ان باتوں کو مان لیا اس کے لئے جنت ہے اور جس نے نہ مانا اس کے لئے آگ کا عذاب ہے ۔ اے عمرو ! ایمان لاؤ ، اللہ تم کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچائے گا۔“ عمرو بن مرہ پہلی ہی ملاقات میں متاثر ہو گئے اور کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ وانك رسول الله آمنت بكل ماجئت بہ من حلال و حرام وان رغم ذلك كثير من الاقوام میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں ہر اس حلال و حرام پر ایمان لایا جس کو آپ لے کر آئے ہیں۔ خواہ بہت سے لوگوں کو یہ بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader