Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاق

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

رھا لگے) پھر انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول ! مجھ کو میری قوم کی طرف بھیج دیجئے ۔ شاید اللہ میرے ذریعہ سے ان پر احسان کرے جس طرح اس نے آپ کے ذریعہ میرے اوپر احسان کیا ہے۔ آپ نے ان الفاظ میں نصیحت کرتے ہوئے ان کو روانہ کیا : عليك بالرفق والقول السديد ولا تكن فظا ہمیشہ نرمی اختیار کرنا، سیدھی بات کہنا، تند خو مت بننا، ولا متكبرا ولا حسودا (کنز العمال) تکبر اور حسد نہ کرنا۔ چار اہم ترین نصیحتیں ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھ دن تک روزانہ مجھ سے کہتے رہے: "اے ابوذر ! خوب سمجھ لو جو تم سے کہا جانے والا ہے"۔ جب ساتواں دن آیا تو آپ نے فرمایا: اوصيك بتقوى الله في سر امرك وعلانيته میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ واذا اسأت فاحسن، ولا تسئل احد شيئاً سے ڈرنے کی۔ اور جب تم سے کوئی برائی ہو جائے تو اس ان سقط سوطك ، ولا تقبض امانة کے بعد بھلائی کرو کسی سے کوئی چیز نہ مانگو تمھار اکوڑا (الترغيب والترہیب جلد ۲) گر گیا ہو۔ اور کسی کی امانت پر قبضہ مت کرنا۔ انسان کے ساتھ رعایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ایک اعرابی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا : دعوه وارفيقوا على بوله سجلا من الماء اوذنوبا اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول لے من ماء - فانما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين کر ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے (بخاری) گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ جو دھوکہ دے وہ مسلمانوں میں سے نہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار سے گزر رہے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص غلہ کا ڈھیر لگائے ہوئے اس کو فروخت کر رہا ہے۔ آپ نے غلہ کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ کی انگلیاں تر ہوئیں ۔ آپ نے غلہ کے مالک سے کہا کہ اس میں یہ تری کیسی ہے۔ اس نے کہا کہ بارش میں بھیگ گیا۔ آپ نے فرمایا : افلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس - من تم نے اس بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے ۔ غشنا فليس منا (متفق عليه) یاد رکھو جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ صحابی کا سب سے زیادہ محبوب عمل ابو نعیم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ انھوں نے کہا : لان اعول اهل بيت من المسلمين شهرا او جمعة اگر میں مسلمانوں میں سے کسی کے گھر کی خبرگیری کروں ، او ماشاء الله احب الى من حجة بعد حجة - ولطريق ایک مہینہ یا ایک ہفتہ تک تو یہ مجھ کو حج پر حج کرنے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page