Urdu book · اسلامی زندگی

اللہ والے

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کے ساتھ ادنی شرکت گوار نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے کہا : ماشاء اللہ و ما شئت خدا جو چاہے اور آپ جو چاہیں رسول اللہ نے اس قول کو سخت نا پسند کیا اور فرمایا : اجعلتنی للہ ند ا کیا تم نے مجھ کو اللہ کا برابر بنا دیا۔ بل ماشاء اللہ وحدہ بلکہ یوں کہو : تنہا اللہ جو چاہے آخر وقت تک اللہ پر یقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے نکلے تو پہلے تین دن تک غار ثور میں ٹھہرے۔ قریش کے لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اے خدا کے رسول ! دشمن اتنے قریب آچکا ہے کہ ان میں سے کوئی اگر اپنے پیروں کی طرف نظر ڈالے تو وہ ہم کو اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا : یا ابابكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما اے ابوبکر ! تمہارا کیا خیال ان دو کے بارے میں ہے ( البدایہ والنہایہ جلد ۳ ) جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ دنیوی مشکلات پر خدا کی یاد کا سہارا لینا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ فاطمہ رض کا یہ حال تھا کہ گھر کا سب کام انھیں کو کرنا پڑتا۔ چکی پینے کی وجہ سے ہاتھ میں چھالے پڑ جاتے ۔ پانی باہر سے مشک میں بھر کر لانا ہوتا جس کی وجہ سے گردن میں نشان پڑ گیا تھا۔ جھاڑو دینے میں کپڑے میلے ہوجاتے ۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے۔ میں نے فاطمہ سے کہا : تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور اپنے لئے ایک خادم مانگ لو۔ فاطمہ رض گئیں۔ مگر وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ مل نہ سکیں اور واپس آگئیں۔ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے اور پوچھا کہ کیا کام تھا۔ فاطمہ رض چپ رہیں۔ میں نے قصہ بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خادم نہیں دیا، بلکہ فرمایا : اتقی الله يا فاطمة وادی فريضة ربك واعمل اے فاطمہ ! اللہ سے ڈرو ۔ اپنے رب کے فرائض ادا عمل اهلك واذا اخذت مضجعك فسبحی ثلثا کرو۔ اپنے گھر والوں کے کام کرو۔ اور جب بستر وثلاثين واحمدی ثلثا وثلاثين وكبری پر جاؤ تو ۳۳ بار اللہ کی تسبیح کرو ۔ ۳۳ بار اللہ کی اربع وثلاثين فذلك مائة ـ هى خير لك من حمد کرو۔ ۳۴ بار اللہ کی تکبیر کرو۔ یہ پورا سو ہے خادم (الترغيب والترہیب جلد ۳) یہ تمھارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ انتہائی بغض کے باوجود مکمل انصاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page