Urdu book · اسلامی زندگی

اللہ والے

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے پاس کسی کی غیبت نہ کرنا۔ عامر کہتے ہیں۔ میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے کہا۔ ان میں سے ہر نصیحت ہزار کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا، ہر نصیحت دس ہزار سے بہتر ہے۔ خوشامدی ماتحتوں کا جمع ہونا بری علامت ہے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جب کسی صاحب امر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو سچا وزیر دے دیتا ہے کہ اگر وہ بھول جائے تو وہ اس کو یاد دلائے۔ اور اگر یاد ہو تو اس کی مدد کرے ۔ اور جب وہ کسی صاحب امر کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ کرتا ہے تو اس کو بُرا وزیر دے دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو یاد نہ دلائے، اور سا گر یاد ہو تو مدد نہ کرے ۔ (ابو داؤد ) لفظی عقیدت مندی حقیقی تعلق کا ثبوت نہیں جبیر بن نفیر کہتے ہیں۔ میرے والد نے بتایا کہ ایک روز ہم مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا۔ صحابی کو دیکھ کر اس نے کہا: کیسی خوش نصیب ہیں یہ دونوں آنکھیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ واللہ ہماری تمنا ہے کہ جو کچھ آپ نے دیکھا، ہم بھی اسے دیکھتے اور جن مواقع میں آپ شریک ہوئے ہم بھی ان میں شریک ہوتے۔ مجھے اس آدمی کی بات پسند آئی۔ میں نے سوچا کہ اس نے جو کچھ کہا خیر کہا۔ مگر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: تم میں سے کسی کو ان مواقع میں حاضری کی تمنا نہ کرنی چاہیے جن سے اللہ نے اس کو یری رکھا ہے۔ کیا معلوم وہ اس موقع پر ہوتا تو کیا کرتا۔ خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ایسے لوگ آئے جن کو اللہ نے جہنم میں دھکیل دیا۔ انھوں نے نہ آپ کا کہا مانا اور نہ آپ کی تصدیق کی۔ کوفہ کے ایک آدمی نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبد اللہ کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ان کی صحبت میں رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا ” ہاں اے میرے بھتیجے “ کوئی نے کہا آپ لوگ کیا کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے کہا ” خدا کی قسم ہم مشقتیں برداشت کرتے تھے “ کوئی نے کہا: خدا کی قسم اگر ہم آپ کو پالیتے تو آپ کو زمین پر چلنے نہ دیتے۔ اپنی گردنوں پر آپ کو اٹھائے پھرتے۔ حضرت حذیفہ کہا: انت كنت تفعل ذلك (مسلم) تم ایسا کرتے ! اخلاص کے بغیر قربانی بھی معتبر نہیں غزوہ احد (۳ھ) میں ایک مسلمان شریک ہوا اور لڑ کر مارا گیا۔ اس کی ماں کو معلوم ہوا تو اس نے کہا وا شہیدا (ہائے شہید)۔ آپ نے سنا تو فرمایا : مہ، مايدريك انه شهید ۔ ولعله كان ٹھیر۔ کیا معلوم کہ وہ شہید ہوا۔ شاید وہ بے فائدہ يتكلم فيما لا يعنيه ويبخل بمالا ينقصه باتیں کرتا ہو اور اس چیز کو دینے میں بخیل رہا ہو (ترمذی) جس کو دینے میں اس کا کوئی نقصان نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page