اخلاق
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
برائی کرنے والے کے حق میں اچھی دعا کرو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا۔ آپ کے حکم سے اس کو کوڑے مارے گئے۔ جب وہ چلا گیا تو کچھ لوگوں نے کہا : اے اللہ اس شخص کو رسوا کر ۔ اے اللہ ! اس شخص پر لعنت کر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا تقولوا هكذا ولا تكونوا للشيطان على اس طرح مت کہو اور اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے اخيكم۔ ولكن قولوا اللهم اغفر له اللهم ساتھتی نہ بنو۔ بلکہ اس طرح کہو : اے اللہ اس کو معاف اهده (ابن جرير) فرما۔ اے اللہ اس کو ہدایت دے۔ مسلمان کو لعنت کرنا بہت بڑا گناہ ہے طبرانی نے سلمہ بن اکوع رضہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم کسی کو دیکھتے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی پر لعنت بھیج رہا ہے تو ہم سمجھتے تھے کہ وہ بڑے گناہوں کے دروازہ میں سے ایک دروازہ میں داخل ہو گیا ہے وکنا اذا رأينا الرجل يلعن اخاه رأينا ان قد اتى بابا من ابواب الكبائر) مومن کو حقیر سمجھنا بے دینی تک لے جا سکتا ہے عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حج میں تھے۔ آپ نے عرفات سے کوچ کرنے میں اسا بن زید رضہ کی وجہ سے دیر کر دی۔ آپ ان کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک لڑکا آیا جو کالے رنگ اور چپٹی ناک والا تھا۔ اہل یمن جو آپ کے ساتھ تھے، یہ دیکھ کر بولے : انما حبسنا من اجل هذا (ابن سعد جلد ۴) اسی کی وجہ سے ہم روکے گئے تھے عروہ رضہ کہتے ہیں کہ اہل یمن اپنے اسی قول کی وجہ سے کافر ہوئے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ میں نے یزید بن ہارون سے پوچھا عروہ رضہ کے اس قول کا کیا مطلب تھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اہل یمن کا مرتد ہونا۔ اولاد کسی آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ہے بزار نے اسود بن خلف رضہ سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضہ کو اٹھایا اور ان کا بوسہ لیا۔ پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ان الولد مبخلة مجہلة جبنة لڑکا آدمی کو بخیل بناتا ہے، نادانی کے کام کرتا ہے، (هيٹھی جلد ۴) بزدل بنا دیتا ہے۔ طبرانی نے عبد اللہ بن عمر سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : قاتل الله الشيطان ان الولد فتنة اللہ شیطان کو ہلاک کرے ۔ بے شک اولاد آدمی کیلئے فتنہ ہے۔ گھریلو معاملات میں گھر کے بڑے کا کردار بیہقی نے حسن بن علی رضہ سے روایت کیا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضہ کی صاحبزادی ام کلثوم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader