Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاق

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

بد انق اهديہ الي اخي لي في اللہ عز و جل احب زیادہ محبوب ہے۔ اگر میں ایک طبق دانق (پیسے) اپنے اتي من دينار النفقه في سبيل اللہ عز و جل بھائی کو ہدیہ کروں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ (حلیۃ الاولیاء، جلد ا) میں ایک طبق دینار فی سبيل اللہ خرچ کروں۔ بے فائدہ بات نہ کرنا ، کسی کا برا نہ چاہنا زید بن اسلم کہتے ہیں۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے۔ لوگ ان کے پاس آئے۔ وہ بیمار تھے مگر ان کا چہرہ چمک رہا تھا، لوگوں نے پوچھا: کیا بات ہے کہ آپ کا چہرہ اس قدر چمک رہا ہے۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ما من عملی شیئی اوثق عندی من اثنتین۔ اما میرے عمل میں میرے نزدیک دو چیزیں سب سے زیادہ احد اھما فكنت لا اتكلم فيما لا يعنيني۔ داماً قابل اعتماد ہیں۔ ایک یہ کہ میں بے فائدہ بات نہیں کرتا تھا۔ الاخریٰ فكان قلبی للمسلمین سليما (ابن سعد جلد٢) دوسرے یہ کہ میرا دل مسلمانوں کی طرف سے ہمیشہ صاف رہا۔ اسلام میں نزاکت احساس عبداللہ بن عباس پنڈ کہتے ہیں۔ ایک شخص نے ذبح کی غرض سے ایک بکری کو پہلو کے بل لٹا رکھا تھا اور اپنی چھری تیز کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فر مایا: اتريد ان تميتها موتتين - هلا احد بت کیا تم بکری کو دو موت مارنا چاہتے ہو۔ تم نے اس کو پہلو شفر تك قبل ان تذبحها (طبرانی، احمد) کے بل لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں نہ تیز کر لی۔ خادم کی کوتاہیوں پر اس کو معاف کرنا عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں۔ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: "اے خدا کے رسول! اپنے خادم کو میں روزانہ کتنی بار معاف کروں۔ آپ نے فرمایا : سبعین مرۃ (ستر بار معاف کرو) (ترمذی، ابوداؤد کسی انسان کے ساتھ وحشیانہ سلوک جائز نہیں غزوہ بدر کے بعد جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں ایک شخص سہیل بن عمر و تھا ۔ یہ قریش کا بہت مشہور خطیب تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت سخت تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس شخص کے اگلے دو دانت توڑ دوں، تاکہ آئندہ یہ اسلام کے خلاف تقریریں نہ کر سکے۔ آپ نے کہا: لا مثل به فيمثل اللہ بی وان كنت نبيا میں اس کا چہرہ نہیں بگاڑوں گا ورنہ اللہ میرا بھی چہرہ (من اخلاق النبی) بگاڑ دے گا۔ اگر چہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اجرت ادا کرنے میں دیر نہ کرو ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : اعطوا الاجيرا اجرہ قبل ان يجف عرقتہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دے دو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page