Urdu book · اسلامی زندگی

انصاف پسندی

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

حق کے معاملہ میں کوئی رعایت نہیں بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی جس کا نام فاطمہ تھا۔ لوگ ڈرے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ لوگوں نے اسامہ بن زید رضہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشی بنا کر بھیجا۔ آپ نے سنا تو آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ آپ نے کہا : کیا تم مجھ سے اللہ کی حد کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو۔ اسامہ رضہ نے فوراً کہا : رسول اللہ ص ! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے ۔ پھر آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : پچھلی امتیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ ان کا کوئی شریف چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو یقیناً میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ والذی نفس محمد بیدہ ، لوان فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا (بخاری ومسلم) حد اور کبر سچائی کے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتا ہے غزوہ احزاب سے پہلے مدینہ کے کچھ یہودی مکہ گئے ۔ انھوں نے مکہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر ابھارا اور کہا کہ تم لوگ مدینہ پر حملہ کرو ۔ ہم بھی تمھار ساتھ دیں گے۔ ان یہودیوں میں حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ شامل تھے۔ اس وقت مکہ کے سرداروں نے یہودی علماء سے کہا کہ ہم بیت اللہ کے متولی ہیں ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں اور کعبہ کو آباد رکھتے ہیں۔ بتاؤ کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد کا دین (افد بیننا خير ام دین محمد) یہودی علماء نے جواب دیا : تمھارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور تم ان سے زیادہ حق پر ہو۔ وانتم اولی بالحق منہ (تہذیب سيرة ابن هشام جز ء اول صفحه ۱۹۶) انصاف میں چھوٹے اور بڑے برابر ہیں ابن عبدالعد کم نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر کا ایک باشندہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! میں ظلم سے پناہ لینے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تجھ کو پناہ دی۔ مصری نے کہا : مصر کے عامل کے لڑکے محمد بن عمروبن العاص سے میرا دوڑ میں مقابلہ ہوا اور میں اس سے آگے نکل گیا ۔ وہ خفا ہو گیا اور اس نے مجھے کوڑے سے مارنا شروع کیا اور کہتا جاتا تھا : خذها وانا ابن الاکرمین (یہ لے اور میں بڑے آدمیوں کا بیٹا ہوں) یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عمروبن عاص رضہ کو لکھا کہ وہ اپنے لڑکے کو لے کر فوراً مدینہ پہنچیں۔ وہ آئے تو آپ نے مصری کو بلایا اور اس کو کوڑا دے کر کہا کہ اس کو مار۔ اس نے مارنا شروع کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے جاتے تھے : اضرب ابن الاکرمین (بڑے آدمیوں کے بیٹے کو مارو) جب وہ لڑکے کو خوب مار چکا تو آپ نے فرمایا کہ اب عمروبن العاص کو مارو۔ کیوں کہ ان کے لڑکے نے اپنے باپ ہی کے بل پر تم کو مارا ہے (فوالله ما ضرب ابنہ الا بفضل سلطانہ) مصری نے کہا : مجھ کو جس نے مارا تھا ، اس کو میں نے مارلیا۔ اب کسی اور کو مارنے کی مجھے حاجت نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو ان کو مارتا تو ہم تیری راہ میں حائل نہ ہوتے الایہ کہ تو خود ہی ان کو چھوڑ دے۔ پھر عمروبن العاص رضہ سے مخاطب ہو کر فرمايا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page