انصاف پسندی
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
خواص امانت دار ہوں تو عوام بھی امانت دار ہو جاتے ہیں ابن جریر نے اپنی تاریخ میں حضرت قیس العجلی سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عمر فاروقؓ کے پاس کسریٰ (شاہ ایران) کی قیمتی تلوار اور اس کی بیٹی اور اس کی زینت کا سامان لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ چیزیں لاکردی ہیں وہ یقینا امانت والے لوگ ہیں حضرت علیؓ نے کہا کہ آپ نے پاک دامنی اختیار کی تو رعایا بھی پاک دامن ہوگئی۔ لماقدم بسيف كسرى على عمر رضى الله عنه ومنطقته وزبرجه قال : ان اقواما ادوا هذا لذوو امانة . فقال على رضى الله عنه : انك عففت فعفت الرعية ) خدا کے لیے نرم اور خدا کے لیے سخت ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں شعبی سے نقل کیا ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم اللہ کے معاملہ میں میرا دل نرم ہوا یہاں تک کہ وہ پانی کے جھاگ سے زیادہ نرم ہو گیا اور اللہ کے معاملہ میں میرا دل سخت ہوا یہاں تک کہ وہ پتھر سے زیادہ سخت ہو گیا۔ ( قال عمر رضى الله عنه ، والله لقد لان قلبى فى الله حتى لھو ألين من الزبد ۔ واشتد قلبي في الله حتى لھو اشد من الحجر ) اختلافی عمل کبھی شرارت ہوتا ہے حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم اور خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج کے زمانے میں مکہ اور منیٰ میں قصر (دو رکعت) پڑھتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ایسا ہی کیا۔ پھر بعد کو حضرت عثمان رضی اللہ نے چار رکعتیں پڑھیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے انا للہ و انا الیہ راجعون کہا۔ اس کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے چار رکعت (بغیر قصر) نماز پڑھنے پر انا للہ و انا الیہ راجعون کہا اور پھر خود بھی چار رکعت پڑھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خلاف کرنا شرہے۔ (الخلاف شرة) حضرت عثمان کے اس عمل کی اطلاع حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو دی گئی تو انہوں نے بھی اس کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے بعد کھڑے ہوے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader