Urdu book · اسلامی زندگی

اتحاد

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد کے دور میں لوگوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا سبب باہمی اختلاف عن عقبة بن عامر رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله عليه وسلم خرج الى قتلی احد فصلی علیهم بعد ثمان سنين كالمودع للأحياء والأموات ثم طلع الى المنبر فقال : انی بین ایديكم فرط و انا شهيد عليكم - وإن موعدكم الحوض و (انی) لا نظر اليه من مقامی هذا - وانی والله ما اخاف عليكم ان تشركوا بعدی ولكن اخاف عليكم الدنيا ان تنافسوا فيها و تقتلوا فتهلكوا كما هلاك من كان قبلكم - قال عقبة فكانت آخر ما رأيت رسول الله صلی الله عليه وسلم على المنبر (بخاری و مسلم) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے آٹھ سال بعد احد کے مقام پر گئے اور وہاں شہید ہونے والوں کے لئے دعا فرمائی۔ ایسی دعا جو کوئی رخصت ہوتے وقت کرتا ہے۔ پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میں تمھارے لئے میر منزل ہوں اور تمھارے اوپر گواہ ہوں۔ اور تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض ہے۔ اس حوض کو میں یہیں سے دیکھ رہا ہوں۔ اور خدا کی قسم مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی حرص میں پڑ جاؤ گے اور آپس میں لڑ دو گے اور ہلاک ہو گے جس طرح پچھلی امتیں ہلاک ہوئیں ذاتی شکایت کو دینی شکایت نہ بنانا ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (جلد ۱) میں طارق بن شہاب سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت خالد اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی بات پر اختلاف پیدا ہوا۔ ایک شخص حضرت سعد کے پاس گیا اور حضرت خالد کے کے خلاف ان سے کچھ کہنے لگا۔ انھوں نے کہا: ٹھہرو ۔ ہمارے اور ان کے درمیان جو جھگڑا ہے وہ ہمارے دین پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ (مه! ان مابیننا لم یبلغ دینا، طبرانی) زبان اور ہاتھ کو آپس کی جنگ سے روکو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایک تلوار دی اور فرمایا: یا محمد بن مسلمة جاهد بهذا السيف فى سبيل الله حتى اذا رأيت من المسلمين فئتين تقتلان فاضرب به الحجر حتى تكسره ثم كف لسانك ويدك حتى تأتيك منية قاضية اويد خاطئة ( ابن سعد جلد ٣ ) اے محمد بن مسلمہ! اس تلوار سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ مسلمان دو ٹولیوں میں بٹ کر آپس میں لڑ رہے ہیں تو اس تلوار کو پتھر پر مار کر توڑ دینا۔ پھر اپنی زبان کو اور اپنے ہاتھ کو روک لینا یہاں تک کہ تم کو موت آ جائے یا کوئی خطا کار تم کو ہاتھ بڑھا کر قتل کر دے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page