اتحاد
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
باہمی جنگ میں دونوں فریق سے الگ رہو وائل بن حجر رضہ حضرموت کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ علی بن ابی طالب رضہ اور امیر معاویہ رضہ کے درمیان خون عثمان کے مسئلہ پر جنگ ہوئی تو امیر معاویہ رضہ نے وائل بن حجر رضہ کو بلایا اور کہا کہ تم اس معاملہ میں ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ انھوں نے عذر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ فتنے تمھاری طرف آگئے جو اندھیری رات کے ٹکڑے کی طرح ہیں؛ میں نے پوچھا کہ ہم اس وقت کیا کریں۔ آپ نے فرمایا: اے وائل! اسلام میں جب دو تلواریں چلیں تو تم دونوں تلواروں سے الگ رہنا (یا وائل اذا اختلف سیفان فی الاسلام فاعتزل لهما، طبرانی) حاکم کے ذمہ دوسروں کی اصلاح، غیر حاکم کے ذمہ اپنی اصلاح بیہقی نے سائب بن یزید رضہ کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میرے لئے کیا یہ بہتر ہے کہ اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں یا اپنی ذات پر متوجہ رہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ کا ذمہ دار مقرر کیا جائے، وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ اور جو شخص صاحب امر نہ ہو وہ اپنی ذات پر متوجہ رہے اور اپنے والے کی نصیحت کرے (اما من ولی من امر المسلمین شیئا فلا يخاف فی الله لومة لائم۔ ومن کان خلو فليقبل على نفسه وليصح لولی امرہ کنز العمال جلد ۳) انفرادی شکایتوں کو ہر حال میں برداشت کرنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اسلام کے ارادہ سے اپنے گھر سے نکلے اور مدینہ پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھارہے تھے۔ وہ نماز میں آخری صف میں شامل ہوگئے۔ نماز کے بعد انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کلمہ توحید کے اقرار کے علاوہ آپ نے ان سے حسب ذیل چیزوں کے لئے بیعت لی: تمھارے اوپر اطاعت لازم ہوگی تنگ دستی میں بھی اور آسائش میں بھی۔ پسندیدگی میں بھی اور ناگواری میں بھی۔ اور خواہ تمھارے اوپر دوسروں کو ترجیح دی جائے (عليك الطاعة فی عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، دائرة عليك ، کنز العمال جلد ۸) اجتماعی امور میں امیر کی مکمل اطاعت بیہقی نے عبداللہ بن یزید سے اور حاکم نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کیا ہے۔ غزوہ ذات السلاسل میں رسول اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader