Urdu book · اسلامی زندگی

اتحاد

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا۔ اس دستہ میں ابوبکرضہ اور عمررضہ وغیرہ تھے۔ اس دستہ کا سردار آپ نے عمر بن عاص کو مقرر کیا۔ وہ لوگ چلے یہاں تک کہ مقام جنگ کے قریب پہنچ گئے اور رات کو پڑاؤ کیا۔ عمرو بن عاص رضہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ آگ روشن نہ کریں۔ عمر رضی اللہ عنہ کو یہ غیر ضروری مشقت معلوم ہوئی۔ وہ غصہ ہو گئے اور اٹھے کہ عمرو بن عاص رضہ کے پاس جائیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو روکا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسی لئے تمھارے اوپر امیر بنایا ہے کہ ان کو جنگی معاملات سے زیادہ واقفیت ہے (لم يستعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم عليك الا لعلمه بالحرب) حکمرانوں کو نصیحت تنہائی میں نہ کہ مجمع عام میں حاکم نے جبیر بن نفیر سے روایت کیا ہے کہ عیاض بن غنم اشعری نے شہر دار افتح کیا تو اس کے حاکم کو سزا دی ۔ ہشام بن حکیم ان کے پاس آئے اور کہا: اے عیاض! کیا تم کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ان اشد الناس عذابایوم القيامة اشد الناس قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس کا ہوگا عذابا لناس فى الدنيا ہشام سخت سست باتیں کہہ کر چلے گئے۔ چند روز کے بعد عیاض بن غنم ان سے ملے اور کہا: اے ہشام ہم نے بھی وہ بات سنی ہے جو تم نے سنی ہے۔ اور وہ بات دیکھی ہے جو تم نے دیکھی ہے اور وہ صحبت اٹھائی ہے جو صحبت تم نے اٹھائی ہے۔ اے ہشام! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: جس کسی کو حاکم سے کوئی نصیحت کرنی ہو تو وہ علانیہ طور پر اس سے نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو تخلیہ میں لے جائے اور تنہائی میں اس سے کہے۔ اگر حاکم نے قبول کر لیا تو قبول کر لیا۔ اور اگر نہیں قبول کیا تو آدمی نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور اس کا حق تھا اس کو ادا کر دیا۔ (من كانت عنده نصيحة لذى سلطان فلا يكلمه بهاعلانية ولياخذ بيده وليخل به، فان قبلها قبلها والاكان قد ادى الذي عليه والذى له) گروہی پکار جاہلیت کی پکار ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ایک بار ہم لوگ کسی غزوہ میں تھے۔ مہاجرین میں سے ایک شخص نے انصار کے ایک شخص کی پیٹھ پر گھونسہ مار دیا۔ وہ شخص غصہ میں آگیا اور پکارا: یا للأنصار (اے انصار! مدد) دوسری طرف مہاجر نے آواز دی: یا للمہاجرین (اے مہاجرین! مدد) دونوں گروہ جمع ہو گئے اور دونوں میں جھڑپ بھی شروع ہو گئی۔ پھر کچھ لوگوں نے درمیان میں پڑ کر فریقین کو ہٹا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ما بال دعوى جاہلية (یہ زمانہ جاہلیت جیسی باتیں کیوں ہو رہی ہیں) لوگوں نے کہا: اے خدا کے رسول! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مار دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ان باتوں کو چھوڑو، یہ بدبودار باتیں ہیں (دعوها فانها منتنة، مسلم، احمد بیتی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page