اتحاد
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
" مجھے معلوم ہوا کہ تمھارے صاحب نے تم پر ظلم کیا ہے۔ خدا تم کو ذلت اور عناد ہونے کی جگہ پر نہ رکھے۔ تم ہمارے پاس آجاؤ۔ ہم تمھاری قدر کریں گے "۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور اسی وقت اس کو آگ میں ڈال دیا ۔ پچاسویں دن اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی۔ ورنہ دشمن تمھارے اوپر مسلط ہو جائیں گے ابن ابی شیبہ نے ثمرہ کے واسطے سے ایک شخص کی روایت نقل کی ہے۔ اس نے کہا کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں عریف (قبیلہ کا چودھری) تھا۔ آپ نے ہم کو کسی چیز کا حکم دیا۔ کچھ دن کے بعد آپ نے پوچھا: کیا تم نے وہ کام کر دیا جس کا میں نے تمھیں حکم دیا تھا۔ انھوں نے کہا نہیں۔ خلیفہ چہارم نے فرمایا: خدا کی قسم تم لوگ ضرور اس کام کو کرو جس کا تمھیں حکم دیا جائے ورنہ یہودی و نصاریٰ تمھاری گردنوں پر سوار ہو جائیں گے (واللہ تفعان ماتومرون بہ اولترکبن اعناقکم اليهود والنصاریٰ ، كنزالعمال) باہمی لڑائی خدا کی مدد سے محروم کر دیتی ہے حضرت خباب بن الارت کہتے ہیں کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عادت کے خلاف بہت لمبی نماز پڑھی۔ صحابہ نے اس کے متعلق سوال کیا تو فرمایا: یہ رغبت اور ڈر کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں ۔ ان میں سے دو قبول ہو گئیں۔ ایک کے بارے میں انکار کر دیا گیا۔ فرمایا: میں نے یہ دعا کی کہ میری ساری امت قحط سے ہلاک نہ ہو جائے۔ یہ قبول ہو گئی۔ دوسری دعا یہ کی کہ ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ ہو جو ان کو بالکل مٹا دے۔ یہ بھی قبول ہو گئی۔ تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔ یہ بات منظور نہیں ہوئی ۔" اختلاف کی قیمت پرسرداری قبول نہ کرنا ابن سعد نے حضرت میمون کے واسطے سے ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے : قال دت معاويّة عمروبن العاص وهو يريد وہ کہتے ہیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رض کو يعلم ما في نفس ابن عمر۔ يريد القتال ام لا فقال حیلہ کر کے عبداللہ بن عمر رض کے پاس بھیجا، وہ جاننا يا ابا عبد الرحمن ! ما يمنعك ان تخرج فنبايعك چاہتے تھے کہ خلافت کے بارہ میں) عبداللہ بن عمر رض وانت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم کے دل میں کیا ہے۔ وہ لڑنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ عمرو ابن امير المومنين وانت احق الناس بهذا الامر بن العاص رض ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابو عبد الرحمن !

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader