Urdu book · اسلامی زندگی

اتحاد

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ اس کا محافظ ہے جو اللہ کا کام کرے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو میرے حجرہ میں تھے اور جاگ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ آپ نے فرمایا، کاش میرے اصحاب میں سے کوئی صالح آدمی رات کو میرا پہرہ دیتا۔ اتنے میں باہر سے ہتھیار کی آواز آئی۔ آپ نے پکار کر پوچھا کہ کون ہے، آواز آئی ” میں سعد بن مالک ہوں“ آپ نے پوچھا: کیا چیز تم کو یہاں لے آئی۔ انھوں نے جواب دیا: اے خدا کے رسول میں اس لیے آیا تا کہ آپ کے اوپر پہرہ دوں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراتے کی آواز سنی۔ ایک اور روایت میں وہ کہتی ہیں کہ مدینہ آنے کے بعد رات کے وقت آپ پر پہرہ دیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت اتری واللہ یعصمك من الناس (مائدہ ، ۶۷) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبہ سے اپنا سر نکالا اور فرمایا: اے لوگو واپس جاؤ کیونکہ اللہ نے ہم کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے یا ایہا الناس انصر فافتہ عصمنا اللہ عز وجل، تفسیر ابن کثیر، جلد اول۔ صفحہ ۵۳۵) حکمت اللہ کا سب سے بڑا عطیہ ہے ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا: حکمت اور علم ایک نور ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یہ بہت سے مسائل جاننے کا نام نہیں ہے (الحكمة والعلم نور یہدی به الله من يشاء دليس بكثرة المسائل ، جامع بيان العلم وفضله، جزء اول (۱۸) علم کے بغیر عمل کبھی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: جو شخص علم کے بغیر عمل کرے گا وہ اصلاح سے زیادہ فساد پیدا کرے گا (من عمل في غير علم كان ما يفسد اكثر مما يصلح ، جامع بيان العلم وفضله، جزء اول، صفحه ۲۰۷) برے سلوک پر اچھے انجام کی فال لینا ایرانیوں سے جنگ کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک سفارتی وفد شاہ یزدگرد کے دربار میں گیا۔ یزدگرد نے ان سے حقارت آمیز باتیں کیں۔ اس نے کہا۔ میں نہیں جانتا کہ زمین پر کوئی قوم تم سے زیادہ بدبخت اور تعداد میں کم اور آپس میں لڑنے والی نہ ہو۔ ہم تم لوگوں کو آس پاس کے دیہاتوں کے سپرد کر دیں گے۔ وہی تمھارے لیے ہماری طرف سے کافی ہوں گے۔ مسلمانوں کی طرف سے مغیرہ بن شعبہ نے کہا: تم نے ہماری جس زبوں حالی کا ذکر کیا، وہ بالکل درست ہے۔ ہمارا مکان صرف زمین کی سطح تھی۔ ہم وہی کپڑے پہنتے تھے جو ہم اونٹوں اور بکریوں کے بالوں سے بناتے تھے۔ ہمارا دین یہ تھا کہ ہمارا العض بعض کو قتل کر دیتا تھا اور ایک دوسرے سے بغض اور عداوت رکھتا تھا۔ ہم میں سے کوئی اپنی زندہ بیٹی کو اس اندیشہ سے دفن کر دیتا تھا کہ وہ اس کے کھانے میں سے کھائے گی۔ پھر اللہ نے ہماری طرف ایک شخص کو بھیجا جس کو ہم اچھی طرح جانتے تھے اور وہ ہم میں سب سے بہتر تھا۔ اس نے ہمارے سامنے ایک دعوت پیش کی۔ ابتدائر ہم میں سے صرف ایک شخص (ابوبکر رض) نے اس کا ساتھ دیا۔ ہم اس کی باتوں کو جھٹلاتے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page